عمران حکومت کی آختہ کاری مہم

عمران حکومت کی آختہ کاری مہم

”وقائع سیرو سیاحت ڈاکٹر برینئر، بعہد شاہ جہان و اورنگ زیب“ میں ایک ایسا قصہ ملتا ہے جس نے مصنف اور اس کے مترجم سید محمد حسین دونوں کو حیرت زدہ کر دیا۔ عنوان ہے ”ایک واقعہ کا ذکر جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خوجوں کو بھی تعشق ہو سکتا ہے۔“ برینئر لکھتے ہیں ”انہیں دنوں ایک ایسا افسوسناک واقعہ دہلی میں ہوا کہ جس کا تمام شہر اور بالتخصیص شاہی محل سرا میں بہت چرچا تھا اور جس سے میری اور لوگوں کی اس رائے کی کہ جو شخص رجولیت سے محروم کر دیا جائے اس کو تعشق نہیں ہو سکتا، غلطی ثابت ہو گئی۔

دیدار خاں نامی ایک ذی رتبہ خواجہ سرا اپنے ہمسائے میں ایک ہندو کی بہن پر عاشق ہو گیا۔ دونوں کے درمیان کچھ عرصہ ناجائز تعلق رہا کسی کو کچھ شبہ نہ ہوا کیونکہ یہ خوجہ تھا اور زنانہ میں آنے جانے سے خوجوں کو کوئی بھی مانع نہیں ہوتا۔ آخر کار ان کا تعشق یہاں تک بڑھ گیا کہ اس ہندو کو بھی اس قسم کی خبریں پہنچ گئیں۔ ایک رات لڑکی کے بھائی نے دونوں کو اکٹھے سوتے دیکھ کر دلدار کی چھاتی میں خنجر گھونپ کر ماردیا۔ اس واردات سے محلسرائے شاہی میں نہایت تہلکہ اور شورو شر پیدا ہوا اور خواجہ سراؤں اور محل کی عورتوں نے باہم ایکا کر لیا کہ جس طرح بنے اس شخص کو قتل کرنا چاہیے۔“

یہ وہ خواجہ سرا تھا جس کا محل میں آنا جانا تھا۔ اس کو اس دور کے مطابق خصی کیا گیا تھا۔ اس کتاب کے مترجم اس واقعہ پر یہ حاشیہ آرائی کرتے ہیں ”مصنف نے باوصف اس قدر قابلیت کے خدا جانے یہ کیا لکھ دیا ہے حالانکہ سیدھی بات ہے کہ اس کے خوجہ بنانے میں کوئی کسر رہ گئی ہو گی۔“

آختہ کاری صدیوں سے جاری ہے۔ یونانی متھالوجی کے مطابق اس کائنات کی ابتدا میں ہی جیا دیوی (زمین) نے یورینس دیوتا (آسمان) کو سزا کے طور پر اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کے ساتھ مل کر خصی کر دیا تھا۔ وہ ہر دفعہ آتا اور جیا پر چھا جاتا جس سے وہ حاملہ ہو جاتی تھی۔ اس نے بارہ ٹائٹنز کو جنم دیا تھا۔ یورینس کا خون جو زمین (جیا دیوی) پر گرا اس سے بھی بچے پیدا ہوتے گئے۔ خصیوں کو جیا نے سمندر میں پھینک دیا اور ان سے افرودیتہ دیوی پیدا ہو گئی۔

پرانے دور میں صرف سرجیکل آختہ کاری ہوتی تھی۔ عام طور پر یہ عمل بچوں پر ہی کر دیا جاتا تھا۔ ان ہیجڑوں کی تین اقسام تھیں۔ 1 صندلی۔ جن کا قضیب اور خصیتین دونوں قطع کر دیے جاتے تھے 2۔ جن کاصرف قضیب اور 3۔ وہ جن کے صرف خصیتین قطع کیے جاتے۔ یورپ کے تاریک دور میں فرانس، وینس، فلورنس اور جنیوا کے شہروں میں غریب ماں باپ کے بچوں کو خرید کر ہیجڑہ بنایا جاتا تھا۔ ان کارخانوں کے زیادہ ترمالک یہودی تھے۔

یہ ہیجڑے محل سرا اور کنیزوں کی حفاظت پر معمور ہوتے تھے۔ یہ نہایت سنگدل اور بے رحم ہوتے تھے اور معمولی سی غلطی پر بھی ان کو کڑی سے کڑی سزا دیتے تھے۔

جب بیگمات کی سواری چلتی ہے تو خاص خاص خواجہ سرا بھاری بھاری پوشاکیں پہنے باد پا نفیس گھوڑوں پر سوار ہاتھوں میں چھڑی لئے ’ہٹو، بچو‘ کی صدائیں لگاتے ہوئے ساتھ چلتے۔ راستہ میں آنے والا کوئی بھی شخص وہ کیسا ہی ذی وقار و ذی رتبہ کیوں نہ ہو ان خواجہ سراؤں سے پٹے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔

ڈاکٹر برینئر لکھتے ہیں ”ہندوستانیوں کی یہ رائے ہے کہ اگرچہ خصی کرنے سے جانورغریب اور سیدھا ہو جاتا ہے مگر آدمی پراس عمل کا اثر برعکس ہوتا ہے اور ان کا قول ہے کہ کیا کوئی خواجہ سرا ایسا بھی ہے جو شریر اور مغرور اور بے رحم نہ ہو۔“

موجودہ دورمیں سرجیکل کے ساتھ کیمیائی آختہ کاری Chemical Castration بھی کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ عام طور پر ذہنی مریضوں اور کینسر کے مریضوں میں اپنایا جاتا ہے۔ مختلف قسم کی ہارمونل ادویات اس کے لئے استعمال کی جاتی ہیں۔

پچھلی صدی سے کیمیکل کاسٹریشن ریپ کے ملزموں میں سزا کے طور پر بھی استعمال کی جا رہی ہے۔ مختلف ممالک میں اس طریقہ کو ملزمان کو سزا میں کمی کے متبادل کے طور پر منظور کیا جاتا ہے۔

1952 میں دوسری جنگ عظیم کے ایک ہیرو سائنسدان ایلن ٹیورنگ کو جنسی جرائم میں ملوث پایا گیا۔ وہ ایک عظیم ریاضی دان تھا۔ موجودہ کمپیوٹر اور مصنوعی ذہانت پر اس کا کام بہت ہی اہم تھا۔ اس نے قید کی بجائے کیمیکل کاسٹریشن کی سزا قبول کر لی۔ اس سزا سے وہ ایسی ڈپریشن میں گھر گیا کہ دو سال بعد ہی اس نے خود کشی کرلی۔ برطانوی حکومت کو نصف صدی کے بعد اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وزیراعظم گورڈن براؤن نے 2009 میں عوام سے اس غلطی کی معافی مانگی۔ 2013 میں جب اس کے خاندان کا کوئی فرد بھی اس دنیا میں موجود نہیں تھا ملکہ نے ایک شاہی فرمان کے ذریعے اس کی سزا معاف کردی۔ ہائے اس زود پشیمان کا پشیماں ہونا۔

ہندوستانیوں کی صدیوں سے یہ رائے ہے کہ ہیجڑے ذہنی مریض ہوتے ہیں۔ یہ ظالم، شریر اور بے رحم بن جاتے ہیں۔ ان کے ضدی پن کی مثال یہ ہے کہ دہلی کے ہندو قاتل کو اورنگ زیب نے اسلام قبول کرنے کی شرط پر معاف کر دیا لیکن مصنف کا کہنا ہے ”خواجہ سراؤں کی عداوت اور ان کے زور کی وجہ سے یہ بے باک شخص زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکے گا۔“ ایک دوسری طرح کے افراد ڈپریشن میں خودکشی تک پہنچ جاتے ہیں۔

اب ہماری عمران حکومت بھی آختہ کاری مہم پر نکلی ہے لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ سرجیکل کا سٹریشن کے بعد جنسی تعلقات کی مثالیں تاریخ کی کتابوں میں ملتی ہیں اور کیمکل کاسٹریشن تو ویسے ہی قابل واپسی عمل ہے۔ یونانی تہذیب کے ابتدائی نامعلوم مفکر بھی اشار ے کنائے میں بیان کر گئے ہیں کہ درانتی سے خصئیے کاٹ بھی دیے جائیں تو جنسی عمل پھر بھی جاری رہ سکتا ہے۔ ڈاکٹر برینئر کے مترجم کے کہنے کے مطابق اس عمل میں کوئی کمی رہ گئی تھی۔

اس کی بات میں سچائی ہو سکتی ہے اور ڈاکٹربھی سچا ہو سکتا ہے کیونکہ جنسی تعلقات کی بنیاد صرف قضیب اور خصیے ہی نہیں ہوتے۔ پورا جسم اس کام میں شامل ہوتا ہے۔ جسم کا ساتھ دینے کے لئے یہ اعضا اگر موجود نہ ہوں تو بھی کام جاری رہ سکتا ہے۔ بلکہ ان حالات میں معاملات بعض مرتبہ خطرناک بھی ہو جاتے ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ آختہ کا ایک معنی تیغ بے نیام بھی ہے۔ لگتا ہے کہ اردو ادب والے جانتے تھے کہ یہ ہیجڑے شمشیر برہنہ غارت گر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مجرمان کیمیائی آختہ کاری کے بعد بھی متشدد قسم کے جنسی جرائم میں ملوث پائے گئے ہیں۔

انڈین سپریم کورٹ وویمن لائرز ایسوسی ایشن کی صدر مہا لکشمی پاوانی کا کہنا ہے ”مرد کی شہوت ختم کر کے تم اس کی انا کو زخمی کر رہے ہو۔“ اس سے وہ اور زیادہ خطرناک ہو جائے گا۔

جب مدراس ہائیکورٹ نے مرکزکو آختہ کاری کو سزا کے طور پر نافذ کرنے کے بارے میں سوچنے کا کہا تو جسٹس ورما کمیٹی نے 2013 میں اس تجویز کو مستردکر دیا۔ کمیٹی نے فیصلہ دیا ”یہ سزا ریپ کی سماجی وجوہات کا علاج کرنے میں ناکام ہے۔ یہ سزا غیرانسانی اور غیر آئینی بھی ہے۔“

سید محمد زاہد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے