امکان

امکان
ہمارے ہاں کچھ رسوم اور رواج ایسے ہیں جو ہماری خوب صورت تہذیب کو مزید خوب صورت بنانے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ یہ الگ المیہ ہے کہ ہم نے ان خوب صورت رسموں اور رواجوں کو دم توڑنے کیلئے چھوڑ دیا ہے جن سے ہماری روحانی تسکین وابستہ ہے اور ان رسوم کو اپنا لیا ہے جو ہمارے جسموں کو حیوانی خواہشات کی طرف مائل کرتی ہیں۔ بہرحال بدصورتی دیرپا نہیں ہوتی۔ بنانے والے نے کائنات کو خوب صورت بنایا ہے تو وہ اس کی آرائش کا سامان بھی پیدا کرتا رہتا ہے۔ جن خوب صورت اور دلکش رسموں کا ذکر میں کر رہا ہوں ان میں ایک انتہائی خوب صورت رسم جو میرے دامنِ دل کو کھینچتی ہے وہ یہ ہے کہ جب کسی خاندان میں کوئی بچہ پہلی بار پاؤں پاؤں چلنا شروع کرتا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی اور کامرانی کیلئے تبرک تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس امید کے ساتھ کہ وہ زندگی کے کٹھن راستوں پر باوقار انداز میں چل سکے اور چوپایوں سے الگ اپنی شناخت برقرار رکھ سکے۔
اس ابتدائی مرحلے میں بچہ کئی بار ڈگمگاتا ہے اور اس کی ایک ایک لغزش پر پیار آتا ہے۔ شجاع شاذ بھی ادبی آنگن میں ایک ایسا ہی بچہ ہے جس نے ابھی پاؤں پاؤں چلنا شروع کیا ہے۔ لیکن اس کی چال قابلِ رشک اور لائقِ تحسین ہونے کے ساتھ ساتھ امید افزاء بھی ہے کہ وہ بہت جلد شہ سواروں کی اس صف میں شامل ہو جائے گا جو ادبی کارواں کی شکل میں میدانِ سخن میں محوِ سفر ہے۔ میری یہ تحریر اس کے لیے مبارک باد سے بھرپور کلمات کے علاوہ کچھ اور نہیں۔
میں شجاع شاذ کی شاعری پر وہ رسمی کلمات نہیں لکھوں گا جو رسمی دیباچہ ساز لکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ تھی کہ میں اس کی شاعری پر لکھنے سے احتراز برت رہا تھا لیکن اس کی ضد تھی کہ اگر میں نے اس کی کتاب پر نہ لکھا تو وہ کتاب شائع نہیں کرائے گا۔ اور ویسے بھی اس کی کاوش پر اسے مبارک باد نہ دینا یقینا اس کے ساتھ ناانصافی ہوتی۔ جہاں تک اس کی شاعری کا تعلق ہے تو میں آپ کے اور اس کی شاعری کے درمیان حائل نہیں ہونا چاہتا۔ اس کا فیصلہ آپ خود اپنی عینک سے کریں نہ کہ میری نظر سے کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ مجھ پر یہ الزام عائد ہو کہ میں اپنے شاگرد کی ستائش کر رہا ہوں۔ محبت نہ صرف شجاع شاذ کا محبوب موضوع ہے بلکہ اردو غزل کی روحِ رواں ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہی وہ زینہ ءِ اول ہے جس سے شاعر ادب کی مختلف کہکشاؤں کی طرح گامزن ہوتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ آگے چل کر کون سی کہکشاں کس کو اپنی گرفت میں لے لے اور پیچھے مڑ کر دیکھنے کی اجازت نہ دے لیکن محبت کے جذبے سے دانستہ گریز کرنا ہماری جدید شاعری کا وطیرہ بنتا جا رہا ہے جو کہ اطمینان بخش یا باعثِ افتخار عمل نہیں ہے۔ اہلِ دل اس بات سے اتفاق کریں گے کہ محبت ہی وہ واحد جذبہ ہے جو ہمیں تہذیب سکھاتا ہے اور قربانی کے اس جدبہ ءِ مقدس سے سرشار کرتا ہے جو کسی اور مخلوق کے حصے میں نہیں آیا۔
اس کتاب کا ٹائٹل ”محبت بدلتی رہتی ہے“ بہت سے قدامت پسندوں کو ناگوار گزرے گا لیکن کیا کیا جائے کہ حقیقت آنکھیں بند کر لینے سے بدل نہیں جاتی۔ جہاں تک میری ذاتی رائے کا تعلق ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ تغیر ہی خوبصورتی کی اصل اساس ہے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ محبت جیسا عالمگیر جذبہ تغیر کے بغیر خوبصورت رہ سکے۔ بہرحال یہ ایک طویل بحث ہے اور کا ذکر کہیں کسی دوسرے موقع پر آ جائے گا۔
کہا جاتا ہے کہ بڑے درخت کے نیچے چھوٹا درخت پروان نہیں چڑھ سکتا لیکن کسی من چلے نے یوں بھی کہا ہے کہ اگر بڑے درخت کے نیچے چھوٹا درخت پروان نہیں چڑھ سکتا تو چھوٹے درخت کے نیچے بھی بڑا درخت نہیں اگ سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ میرا رویہ میرے شاگردوں کے ساتھ د وستوں جیسا ہے۔ میں تو خود ابھی طالب علمی کے ابتدائی دور سے گزر رہا ہوں، میں استاد کیسے ہو سکتا ہوں؟ شجاع شاذ بھی مرا شاگرد نما دوست یا دوست نما شاگرد ہے۔ وہ مجھے استاد بنانے پر مصر ہے اس کے علاوہ یہاں علی زیرک، رفیق لودھی، صدیق صائب، حافظ بلال، ملک عتیق، عاصم بٹ، سمیرا صبا اور رفعت چوہدری میرے ایسے شاگرد اور دوست ہیں جنہوں نے مجھے اکیلا درخت نہیں رہنے دیا بلکہ ایک باغ بنا دیا ہے اور اس باغ میں ایک ہی موسم ہے اور وہ محبت کا موسم ہے جو کبھی خزاں کا روپ دھار لیتا ہے کبھی بہار کا۔ لیکن اس کی خوب صورتی ہمیشہ پہلے سے فزوں ہو جاتی ہے۔ ان بدلتی ہوئی رتوں میں یہ میرے دوست مجھے تازگی فراہم کرتے ہیں۔ ان کی جڑوں سے میری جڑوں کو تقویت ملتی ہے اور ان کے اثمار میری شاخوں کو مزید پرکشش بناتے ہیں۔ خدا کرے اس باغ میں نئے پودے اگتے رہیں اور مسافرانِ ادب کی تسکینِ طبع کا سامان کرتے رہیں۔ میں نے ابتدائی سطور میں اس بات کا ذکر کر دیا ہے کہ شجاع شاذ ادبی دنیا میں ایک نوارد ہے۔ اس نے پاؤں پاؤں چلنا سیکھ لیا ہے اور یہیں کہیں اس کی مسافت کا آغاز ہے۔ یہ کتاب ایک پڑاؤ ہے، اس کی منزل نہیں ہے۔ ابھی وہ صحنِ ادب میں چمک رہا ہے۔ ابھی اس کو اس صحن سے باہر نکلنا ہے جہاں گلیاں سڑکوں سے جا ملتی ہیں اور سڑکیں سرسبز کھیتوں سے ہوتی ہوئی سمندروں اور صحراؤں کی طرف جاتی ہیں۔ ابھی اس کی مسافت ان حیرتوں سے آشنائی کے آغاز میں ہے جو سچے اور سُچے ادب کی ترجمانی کرتی ہیں۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اس کا آنے والا کل اس آج سے کہیں زیادہ ثمر آور ہو گا اور وہ سارے خواب اور امکانات حقیقت اور تعبیر سے مزیں ہوں گے جو اس کے آج کے آئینے سے جھلک رہے ہیں۔ قارئین سے ملتمس ہوں کہ آپ اس کتاب کو محبت سے پڑھین اور اگر کسی ایک شعر میں آپ کو اپنا عکس نظر آ جائے تویقین کیجئے گا کہ وہ آپ کی مکمل تصویر بنانے پر قدرت رکھتا ہے اور بہت جلد وہ اس منصب پر فائز ہو گا جہاں فوٹو گرافر نہیں، مصور براجمان ہوتے ہیں۔
شاہد ذکی
28 ستمبر 2006ء

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے