فروری 5, 2023
ayesha qamar
عائشہ قمر کی ایک اردو غزل

الزام گر وہ دیں گے ہمیں بے وفائی کا
ہم طے نہ کر سکیں گے یہ رستہ جدائی کا

ششدر ہوں ان فرعونوں پہ، اور ان بتوں پہ میں
کس طرح کر رہے ہیں یہ دعویٰ خدائی کا

جن سب کو دے رکھا ہے خدا نے خدائی رزق
چکھیں تو کیسے رزق وہ اپنی کمائی کا

چاہت کہ انکے فہم میں خیرات ہی تو تھی
سو ہم نے توڑ ڈالا ہے کاسہ گدائی کا

عاشی کہاں گئے وہ ترے دوستان_شوق
جن سے تھا اشتراک_وفا جاں فدائی کا

 

عائشہ قمر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے