التجا

التجا

سمیٹ رکھے ہیں رنگ سارے

تمام خوشبو سمیٹ لی ہے

لپیٹ رکھیں ہیں ساری باتیں

تمام خوشیاں ہیں سنگ تمھارے

مرے بدن پہ یہ ملگجا سا

ہے جو لبادہ اتار دونگی

میں اپنے لفظوں کی روشنی سے

تمھاراچہرہ نکھار دونگی

میں رنگ سارے تمام خوشبو

تمھارے قدموں پہ وار دونگی

چلے بھی آؤ وگرنہ سن لو

میں خود میں

 خود کو ہی مار دونگی

سلمیٰ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے