علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میں

علم بدست کہیں آئنہ بکف ہوں میں
ترے خلاف ہر اک سمت صف بہ صف ہوں میں
مجھے تلاش نہ کر تو کہ اک زمانہ ہوا
کتاب عشق کے ہر باب سے حذف ہوں میں
ہزار بھیس بدلتا رہوں مگر اس پار
کسی چمکتی ہوئی آنکھ کا ہدف ہوں میں
بدلتا رہتا ہوں ہر لمحہ اپنے خد و خال
کہیں گہر کہیں دریا کہیں صدف ہوں میں
ڈٹا ہوا ہوں ابھی تک محاذ پر شہزادؔ
اگرچہ ہارے ہوئے شاہ کی طرف ہوں میں
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے