اختلاف رائے جرم نہیں

پاکستان وہ ملک ہے جہاں پر ہر کسی کو آزادی کے ساتھ بولنے اور لکھنے کا پورا حق حاصل ہے مگر بہت افسوس ہے کہ سچ بولنے کے بعد عوام کا جو رویہ شاہد خان آفریدی کے خلاف دیکھا گیا، اس کے بعد دوسرے سٹار کا سچ بولنا اور لکھنا بھی مشکل ہو جائے گا، شاہد آفریدی وہ شخص ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان کے لیے وقف کر دی، کرکٹ کے بعد اب وہ اپنی فاؤنڈیشن سے پاکستان کے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں۔۔
آئیے ایک مختصر سی نظر شاہد آفریدی کے کیرئیر پر ڈالتے ہیں، صاحبزادہ محمد شاہد خان آفریدی 1 مارچ 1975 کو خیبر ایجنسی میں پیدا ہوئے، کسی کو نہیں پتا تھا کہ پیدا ہونے والا یہ بچہ کل بڑا ہو کر پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کرے گا۔ 4 اکتوبر 1996 کے دن کا سورج اپنے ساتھ ایک ایسے کرکٹر کی قسمت لے کر طلوع ہوا تھا، جسے دنیا آج بھی شاہد خان آفریدی کے نام سے جانتی ہے، 16 سال کی چھوٹی میں بطور بولر ٹیم میں شامل ہونے والے اس لڑکے نے حیرت انگیز طور پر بطور بیسٹمین پہلی اننگز میں شاندار ریکارڈ قائم کیا۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسے کرکٹر جنہوں نے ایک اوور میں 6 چھکے بھی لگائے مگر ان کو اتنی پذیرائی نہیں ملی جتنی آفریدی کو ملی، لوگ صرف شاہد آفریدی کی بیٹنگ دیکھنے گراؤنڈ میں آتے تھے اور جب یہ آؤٹ ہو جاتا تھا تو گراونڈ خالی ہو جاتا تھا۔ شاہد آفریدی نے بیٹنگ، بولنگ، فیلڈنگ اور کپتانی کے شعبے میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ آسٹریلیا کے مشہور کرکٹرز اسٹیووا نے ایک بار کہا تھا کہ مجھے دس لکڑی کے ٹکڑے اور ایک شاہد آفریدی دے دو پھر مجھ سے کوئی میچ نہیں جیت سکتا، 2005 میں انڈیا کے خلاف اپنی دوسری تیز ترین اننگز کے دوران جب روی شاستری کمنٹری کر رہے تھے تو انکی زبان سے نکلنے والے دو جملے ( بوم بوم ) شاہد آفریدی کے لیے ایک اور پہچان بن گئے اور دنیا شاہد آفریدی کو بوم بوم کہہ کر پکارنے لگی۔
شاہد آفریدی نے اپنے کیریئر کے آغاز میں جہاں اتنے ریکارڈ بنائے وہاں اب بھی ان کے پاس کئی ایسے ریکارڈ موجود ہیں جن کو توڑنا بہت مشکل ہے، کرکٹ کی تاریخ کا سب سے لمبا چھکا ( 158 میٹر ) مارنے کا اعزاز بھی شاہد آفریدی کو حاصل ہے، شاہد آفریدی دنیا کے پہلے آل راؤنڈر ہیں جنہوں نے ایک روزہ میچز میں +8000 رنز اور 398 وکٹیں حاصل کیں، پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ بار مین آف دی میچ کا ایوارڈ بھی شاہد آفریدی کے پاس ہے، سب سے زیادہ چھکے مارنے کا ریکارڈ بھی شاہد آفریدی کے پاس ہے، شاہد آفریدی نے اپنے کرکٹ کیرئیر میں ایسے میچ بھی جتوائے ہیں، جن میں شکست یقینی تھی، مگر انہوں نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں بیٹنگ کر کے حریف اور ان کے چاہنے والوں کو رونے پر مجبور کر دیا۔
ایک ایسا کرکٹر جس نے اپنے کیریئر میں کبھی اپنے سبز پرچم پر آنچ نہ آنے دی ہو، اور ہمیشہ اپنے ملک کے ساتھ مخلص رہا ہو، اپنے فینز کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے والا یہ شخص آج اپنے ہی لوگوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں ہے، اس کی وجہ عید کی چھٹیوں کے دوران ایک ٹی وی چینل کو دیے جانے والا انٹرویو ہے۔
انٹرویو میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں شہبازشریف شروع ہی سے پسند ہیں کیونکہ وہ بہترین ایڈمنسٹریٹر ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے اسرائیل کے نہیں بلکہ اپنے ملک کے وزیراعظم کو مبارکباد دی ہے، میں نے عمران خان صاحب کو بھی مبارکباد دی تھی، شہبازشریف کی جگہ اگر کوئی اور بھی ہوتا تو اس کو بھی ایسے ہی مبارک باد دیتا، اس انٹرویو میں شاہد آفریدی نے وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے جو کہا، کہ عمران خان کو گراؤنڈ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا، گراؤنڈ کیا ہے پارلیمنٹ، عمران بھائی کو پارلیمنٹ نہیں چھوڑنا چاہیے تھی، دوبارہ کنٹینروں اور سڑکوں پر آنا درست نہیں، آپ پارلیمنٹ میں رہ کر کام کرتے تو بہت اچھا تھا، میں نے عمران خان کو ووٹ اس لیے دیا تھا کہ مجھے عمران خان سے بہت امیدیں تھیں، ان سے بہت غلطیاں ہوئیں جس کو انہیں ماننا چاہیے، عمران خان بہترین لیڈر ہیں مگر ان کو وہ ٹیم نہیں ملی وہ چاہتے تھے۔
شاہد نے یہ بھی کہا کہ عمران بھائی کو دنیا میں بہت سپورٹ ملی ہے، یہ کچھ باتیں تھیں جو شاہد آفریدی نے اس انٹرویو میں کہیں، مگر شاہد آفریدی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ان کی طرف سے کہی گئی ان باتوں کو عوام ہضم نہیں کر پائیں گے، بس پھر کیا سوشل میڈیا پر توپوں کا رخ شاہد آفریدی کی طرف ہو گیا، اداکاروں سمیت کئی لوگوں نے شاہد آفریدی پر تنقید کے پہاڑ گرا دیئے۔جہاں سوشل میڈیا پر کئی لوگوں نے تنقید کی وہاں کئی لوگ شاہد آفریدی کی حمایت میں بھی سامنے آئے، بہرحال جو ہوا بہت غلط ہوا۔
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاہد آفریدی سیاست میں آنے کے لیے اس طرح کے بیان دے رہے ہیں، ہمارے خیال میں شاہد آفریدی سیاست میں نہیں آنا چاہتے اگر آنا ہوتا تو کب کے آ چکے ہوتے، باقی وہ اگر آنا بھی چاہیں تو ان کو کسی پارٹی کی ضرورت نہیں، وہ پاکستان کے کسی بھی علاقے سے آزاد امیدوار بھی کھڑے ہوجائیں تو آسانی سے جیت سکتے اس کی وجہ عوام میں ان کی مقبولیت ہے۔ آخر میں یہی کہنا چاہتے ہیں کہ شاہد آفریدی اور عمران خان دونوں ہی عوام کی پسندیدہ شخصیات ہیں، ذاتی رائے کو اختلافات کی بنیاد بنانا درست نہیں، آزاد معاشرے میں شخصیت کا احترام پہلے ہے، رائے تو ہر ایک کی اپنی ہوتی ہے جسے رکھنے کا ہر شخص کو پورا پورا حق حاصل ہے۔

منیر انجم

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔