اخلاق, اقدار اور معاش!

اخلاق‘ اقدار اور معاش!

علم الاخلاق(Ethics) انسانی زندگی کے وہ اہم اصول‘ ضا بطے ہیں جنہیں ہم اخلاقی عمل سے منسوب کر تے ہیں۔ پس علم الاخلاق انسانوں کے با ہمی روابط یا سما جی تعلقا ت کی نسبت سے وہ رویہ یا کردار ہے جسے آپ سماجی طور پر منا سب یا غیر منا سب تصور کر سکتے ہیں۔ علم معا شیات کا مبدا ء علم الا خلا ق ہے۔
تخلیق انسان ما دیت و رحا نیت کا حسین امتزاج ہے جہاں جسم و روح دو قوتوں کی شکل میں سا تھ ساتھ چلتے ہیں۔ جہاں دنیاوی ضرورتیں انسانی جسم کو متوازن رکھتی ہیں وہیں اخلا ق و حصائل اس کی روحا نی ترقی یا تنز لی کا باعث بنتی ہیں۔ یہ ترقی یا تنز لی کا سفر اس کے معا ملات میں نما یاں طو ر پر اثر انداز ہو تا ہے۔ روح کی بیما ریاں جسم کی بیما ریوں سے الگ ہو تی ہیں۔ معا شیا ت کے مادی پہلوں کو گا ہے بگا ہے اجا گر کیا جاتاہے۔آج ہم آپ کو ایسی اخلاقی بیما ری سے متعارف کرواتے ہیں جو آگے چل کرمعا شی انہتات کا با عث بنتی ہے۔ حرص طمع یا لا لچ وہ اخلا قی بیما ری ہے جو بہت سے معا شی اور معاشرتی مسا ئل کا مو جب بنتی ہے۔ غرض لالچ کا اصل مفہوم یہ ہے کہ کسی چیز میں حد درجہ دلچسپی کی وجہ سے نفس کا اس کی جا نب رغبت اختیار کر نا طمع یعنی لالچ کہلاتا ہے۔ پس لالچ ایک ایسا رویہ ہے جس میں فرد زیادہ سے زیادہ کی خواہش میں خود کو دوسروں سے پیچھے چھو ڑتا چلا جا تا ہے۔یہ روح کی قوت ِ شہویہ کا خاصا ہے جس کی متضا د میا نہ روی کی صفت مو جود ہے۔ لا لچ چاہے پیسے کی ہو یا مرتبے کی ہر دو طر ح سے تبا ہی کا با عث بنتی ہے‘ یہ وہ روحانی بیما ری ہے جس کو دوسروں میں ڈھونڈنا آسان اور خود میں تلاش کر نا مشکل ہے۔ انفرا دی سطح پر لا لچ ایک معا شر ی برا ئی ہے مگر اگر اسے اجتما عی سطح پر دیکھا جا ئے تو یہ لو گوں کے درمیان تعاون کو ختم کر نے اور روابط کے منقطع ہو نے کا با عث بنتی ہے جس سے افراد اور ادارہ جات کی پیداوار پر منفی اثرات مر تب ہوتے ہیں اور یہ اثر مجمو عی طور پر پو ری معیشت تک جا پہنچتا ہے۔
Greed creates unsustainable growth or growth at the expense of social justice.
ہم لا لچ کے جال میں پھنسے کے بجا ئے ایک اطمینان بخش زندگی جی سکتے ہیں اگر ہم میا نہ روی کو اپنا شعار بنا ئیں اور علم الا خلاق کی مدد سے اپنے مادی مسائل کا حل تلا ش کریں۔ہماری ایک تہذیب ہے۔ جس میں پوری زندگی گزارنے کا فلسفہ ہے۔ غریب سے کیسے پیش آنا‘امیر کے ساتھ کیا سلوک‘ آج ہم اندھی تقلید میں قبروں میں قہقے مار کر ہنسنے لگے‘ اولاد کی ہم عصر وں کو باجی ‘بیٹے کی عمر سے دادا کی عمر تک سب انکل بنا بیٹھے‘ ہم آج کھانا ‘پینا ‘کھیلنا ‘عمدہ لباس‘ کوٹھی ‘سٹیٹس ‘ناپیدار اور کھوکھلی اشیاء جن سے انسان خود اکتا جاتا ہے ان کے پیچھے بھاگ رہے۔ آج ہمیں رحمت العالمین ﷺ سے لے کر صحابہ کرام ؓ اسلاف کے کار ہا ئے نمایاں تو درکنار ‘ہمیں سب کے نام کنیت ‘لقب تک یاد نہیں۔ آج ہمیں دولت‘ محل بنانے ‘اروں میں سفر‘ دیگر طیبات ِ حیات سے متمتع ہونے کے باوجود اضطراب و بے چینی سے کیوں دوچار ہیں؟اسلامی تعلمیات کے علاوہ یہ حقیقت غیروں نے بھی تسلیم کی کہ دولت ٗ شہرت ٗ غریبوں سے نفرت ‘غرور آپ کو کبھی چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ڈاکٹر الیگزینڈر کانن کہتاہے ”نیک راہوں پر چلنے سے ہم ایک ایسے افق پہ جا پہنچتے ہیں جہاں اللہ سے شرف ِ کلام حاصل ہوتا ہے ٗ کتنے عظیم ہیں وہ اسرار جن کا علم ہمیں علیم و خبیر رب کے آفاقی دماغ سے تعلق قایم کرنے کے بعد حاصل ہوتا ہے“ دراصل یہ وہ نا قابل ِ تردید حقائق ہیں جنہیں آج ہم سادگی کا نام دے کر نظر انداز کر رہے ہیں وہی حقیقاً دل کا سکون ہیں۔ معاشرے میں یتیم بچوں کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرنا ‘علم کے متلاشی کی مالی امداد کر دینا ٗ غم زادہ کا غم بانٹ لینا ٗ غربیوں سے میل جول ‘یہ وہ اثاثہ ہیں جو جسم میں عروق و اعصاب کا حیرت انگیزجال ‘کاروان ِ بہار کو سیل رنگ ِ و بو بسا دیتے ہیں وہ لوگ قابل ِ دید ہیں جو ان بے سہاروں کی خاطر سب کچھ قربان کر تے ہوئے کائنات کی سب سے بڑی لذت کو حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں مکمل ضابظہ ِ حیات موجود ہے۔ ہماری اخلاقی تہذیب ہے ہر ایک کی اپنی حیثیت ہے۔ ہمارا اخلاق ہمارا سرمایہ ہے۔ انسان پھول کی مانند ہے کئی سے محبت ٗ رحم گداز ٗ انسانیت جیسی خوشبو جنم لیتی ہے جس سے سارا معاشرہ مہک اٹھتا ہے۔ اور کئی کے کردار سے حقارت ٗ نفاق کی وہ گھن آتی ہے کہ معاشرہ ٹوٹ جاتا ہے۔ انسان ایک قوم ہونے کے باوجود منقسم ہو جاتے ہیں۔
ایک قول ہے کہ ”Those who live by hate die by hate & those who live by sword die by sword.“نفرت کبھی نفرت سے ختم نہیں ہو سکتی‘ آج ہم گمنام منزل کے مسافر ہیں۔آج ہم مصائب و الم میں گر گے وہی سب ہم نے اپنا لیا جس کے باعث تباہی کو دعوت خود دی جاتی ہے فرمایا ”کیا بدکار وں کا یہ خیال ہے کہ وہ ہم سے بچ کر نکل جائیں گے؟ ان کا یہ خیال نہایت خام اور غلط ہے۔ہماری مائیں بہینں ‘ بیٹیاں جو ہماری عفت و حیا ء کی پہچان ‘وہی آج مغرب سے بھی بدترین لباس ‘بوائے‘ گرل فرنیڈ ‘ہر ایک کو انکل‘ تہذیب کے زوال ‘غیر معیاری گفت و شنید‘ بازار کی رونق بن گی۔ ہم یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ دنیا مکافات ِ عمل ہے کئی اعمال کی بدولت حادثات ‘بیماری‘ مالی نقصان ‘تجاری خسارے اور متعدد آلام میں گر چکے ہیں۔ بے حیائی ‘فحاشی ‘عریانی ‘تہذیب و اخلاق کی پستی نے ہمیں تباہی کے دہانے لا کھڑا کر دیا۔ ہمارا معاشرہ تو کجا ء ہمارے اداروں میں بھی درس ِ اخلاق کا فقدان ہوتا جا رہا‘ سیمنار‘ روشن خیالی کے نام پر خود اپنی ہی تباہی کا سامان کیا جانے لگا ‘علم ‘دنیاوی جا ہ و جلا ل کے ہوتے بھی ہمارا قلب ویران ہے۔ دراصل جس جگہ سکون ہے وہ ہم منزل ہی بھول چکے۔ منزل تک پہنچنے کے لیے ہی تو دماغ میں فکر کا دِیا ٗ دل میں وجدان کی ہمہ بین آنکھ لگائی ٗ جسم میں عروق و اعصاب کا حیرت انگیز جال بچھایا ٗ کاروان ِ بہار کو رنگ و بو دیا۔ساتھ ہی فرمایا ”جو اللہ سے ڈرتے ہیں اور احکام ِ خداوندی کو مانتے ہیں ٗ جو شرک کے عیب سے پاک ہیں ٗ جو اللہ کی راہ میں حسب ِ استطاعت صرف کرتے ہیں اور جن کے دل اس خیال سے لرزاں رہتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے پاس جانا ہے۔ ہماری کسی بھی شے میں خلوص‘ انسانی کا احترام ‘رشتوں کا تقدس ‘پہچان ہی حرف غلط کی طرح مٹ گی۔ دوسرے سے دور ہو چکے کیا انسانیت کی تذلیل ہے کہ وہی کمزور افراد جنہیں تقریبات میں ساتھ تو لایا جاتا ہے مگر وہ کھڑے رہتے ہیں اور ہم وی آئی پی بن کر ان کے سامنے کھانا کھاتے ہیں۔
اسلام کے زریں اصولوں پر غیروں نے عمل کیا ترقی کی منازل کے عروج تک جا پہنچے اور ہم اخلاق کے بدترین گھاٹی کے مسافر بن گے۔ ایک مغربی حکیم کا قول: نفرت نفرت سے نہیں ختم ہو سکتی ‘اس پر محبت سے غلبہ حاصل کرو ‘دُنیا کو محبت کرنا سکھاؤاور جنت اپنی تمام تر رنگینوں ‘رعنائیوں کے ساتھ یہیں نمودار ہو جائے گی۔ ترک ِ محبت موت ہے۔ جدید تعلیم کی محنت لا حاصل ہے ایسی تعلیم ہی کیا جو کم از کم انسانیت‘ تہذیب ‘آداب ِ زندگی کے طور طریقے ہی نہ بتا سکے۔ہماری بے حیائی ‘روشن خیالی ہمیں لے نہ ڈوبے۔ جدید تعلیم یاقتہ افراد جو کہ اپنی ہی اخلاقی تہذیب ‘معاشرتی اقدار‘ حجاب کو ضعف العقیدہ لوگوں کی تخلیق سمجھتے ہیں۔ ہم کامیابی کا راستہ چھوڑ کر کامیابی کے متلاشی ‘ایسے ہی ہے جیسے مردہ گھوڑے پر چابک برسانا۔یہ کامیابی نہیں بلکہ انسانیت ڈوب رہی ہے۔ہمیں اپنے اسلاف کے نقش ِ قدم پر چلنا ہوگا۔ہماری جملہ معاشی نظام سودی ہو چکا ‘جو ترقی نہیں‘ تنزلی کا باعث ہے۔

عابد ضمیر ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے