ایک تیری دید کی میں پھر پیاسی رہ گئی

ایک تیری دید کی میں پھر پیاسی رہ گئی
میرے پہلو میں پڑی کتنی اداسی رہ گئی
سارا دن کرتی رہی ھوں میں ترا ہی انتظار
شام سے پہلے ہی دیکھو میں ذار سی رہ گئی
میرے اندر کی گھٹن نے مارا ڈالا ھے مجھے
ھوش میرا گھو گیا ھے بد حواسی رہ گئی
دل کے اندر جھانکنے کا ختم ھے اب تو چلن
اب تو لوگوں میں فقط چہرہ شناسی رہ گئی
وہ بزرگوں کا ادب ھے اک پرانی داستاں
نسل_نو کے لہجے میں بس ناسپاسی رہ گئی
اس زمانے کے نئے اطوار دیکھے جابجا
جسم پر کپڑے مگر روح بے لباسی رہ گئی
سانس لینے کو بھی تحمینہ کہے کیا زندگی
زندگی کے نام پر یہ اک بلا سی رہ گئی
تحمینہ مرزا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے