ایک شام

ایک شام
قمقموں کی زہر اگلتی روشنی
سنگ دل پر ہول دیواروں کے سائے
آہنی بت، دیو پیکر اجنبی
چیختی چنگھاڑتی خونیں سرائے
روح الجھی جا رہی ہے کیا کروں
چار جانب ارتعاشِ رنگ و نور
چار جانب اجنبی بانہوں کے جال
چار جانب خوں فشاں پرچم بلند
میں، مری غیرت، مرا دستِ سوال
زندگی شرما رہی ہے کیا کروں
گار گاہِ زیست کے ہر موڑ پر
روح چنگیزی برافگندہ نقاب
تھام اے صبح جہانِ نو کی ضوء
جاگ اے مستقبلِ انساں کے خواب
آس ڈوبی جا رہی ہے کیا کروں
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے