اک دوات ایک قلم ہو تو غزل ہوتی ہے

اک دوات ایک قلم ہو تو غزل ہوتی ہے
جب یہ سامان بہم ہو تو غزل ہوتی ہے
مفلسی عشق مرض بھوک بڑھاپا اولاد
دل کو ہر قسم کا غم ہو تو غزل ہوتی ہے
بھوت آسیب شیاطین اجنہ ہمزاد
اور بزرگوں کا کرم ہو تو غزل ہوتی ہے
شعر نازل نہیں ہوتا کبھی لالچ کے بغیر
دل کو امید رقم ہو تو غزل ہوتی ہے
تندرستی بھی ضروری ہے تغزل کے لئے
ہاتھ اور پاؤں میں دم ہو تو غزل ہوتی ہے
پونچھ کتے کی جو ٹیڑھی ہے تو کچھ بھی نہ بنے
اور تیری زلف میں خم ہو تو غزل ہوتی ہے
صرف ٹھّرے سے تو قطعات ہی ممکن ہیں فگارؔ
ہاں اگر وسکی و رم ہو تو غزل ہوتی ہے
دلاور فگار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے