اک ادھوری سی محبت ہے اثاثہ میرا

اک ادھوری سی محبت ہے اثاثہ میرا
کتنا دلچسپ بنا ہے یہ فسانہ میرا
زندگی اُن کی اُداسی میں گزرتی ہےاب
جو نہیں مانتے تھے کوٸی بہانہ میرا
مجھ کوحاصل بھی نہیں اُس کی محبت لوگو
ہو چکاختم بھی سونےکا ٹھکانہ میرا
جب لگی آگ تو رُخ بدلا ہوا نے جلدی
خاک کر ڈالا تھا اُس نے آشیانہ میرا
کس طرح سےوہ بتاتےبھی مجھے حالِ دل
دیکھتےہی جو دیا پھاڑ تھا نامہ میرا
اک محبت کیاتجھےکی یہ سزا ہےاُس کی
اب تو دشمن ہے بنا سارا زمانہ میرا
اب تو چلتا ہوں مجھےجانا پڑے گا عاجز
وقت وہ دور نہیں گونجے گا ترانہ میرا
ڈاکٹر محمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے