ادھر لمحہ لمحہ

فرازِ شبِ وصل
عجب کیفیت ہے۔ ۔ ۔
یہ وعدے کی شب اور یہ تیرا شبستاں
نگاہوں کی خود سوز شمعوں سے لو اٹھ رہی ہے
ترے سانس میں بس کے صہبا کی خوشبو
مری مستیوں کو ہوا دے رہی ہے
ادھر تیرے رخسار پر سرخیاں ہیں
افق پر شفق پھیلتی جا رہی ہے
عجب کیفیت ہے
فضا میں کوئی دھیما دھیما ساسر
کوئی میٹھی سی دھن ہے
ڈھلکتے ہوئے سرخ ریشم کے سائے
ترے جسم کی چاندنی سے لپٹ کر
مری مست نظروں کو بہکا رہے ہیں
عجب کیفیت ہے ۔ ۔ ۔
تری گرم نظریں
مرے سخت سینے کی چوڑائیوں پر جمی ہیں
مرے ریشے ریشے کا بے خود تناؤ
تری نرمیوں کو صدا دے رہا ہے
عجب کیفیت ہے ۔ ۔ ۔
ترے نرم ہاتھوں کی بے باکیوں سے
مری شرٹ کے سب بٹن کھل رہے ہیں
ترے نرم ہونٹوں کی بھیگی سی گرمی
مرے تن بدن پر پھسلنے لگی ہے
اچانک امڈ کر یہ بے تاب لہریں
سلگتے لبوں سے جو آ کر ملی ہیں
تو لذت کے چشمے ابلنے لگے ہیں
مرے جسم کے گوشے گوشے میں جیسے
محبت کے چشمے ابلنے لگے ہیں
عجیب کیفیت ہے۔ ۔ ۔
تیرے جسم کی ریشمی نرمیاں اب
مرے تن کی مضبوطیوں سے لپٹ کر
فرازِ شبِ وصل کو چھُو رہی ہیں
تری سسکیاں ، تیری سرگوشیاں
تیری مخمور آہیں ۔ ۔ ۔
محبت کے اس نا رسیدہ سخن کو زباں دے رہی ہیں
جو سب سے جدا ہے
جو امرت سے شیرینیوں میں سوا ہے
عجب کیفیت ہے ۔ ۔ ۔ ترے بازوؤں میں
مجھے چاہے جانے کی لذت کا جیسے
نشاں مل گیا ہے
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے