ادیبہ

ادیبہ

جانے کب سے قلم اُٹھائے
کچھ لکھنے کو سوچ رہی ہوں
سوچتی ہوں ،لکھ ڈالوں میں
کچھ دنیا ،کچھ دل کی باتیں
ہجر کے دن اور وصل کی راتیں
سوچتی ہوں ،لکھ ڈالوں میں
تیری آنکھوں کی گہرائی
جن میں ہم نے زیست لٹائی
سوچتی ہوں ،لکھ ڈالوں میں
تجھ کو اپنے سامنے پاکر موسم رنگ بدلتا کیوں ہے ؟
دل کا موم پگھلتا کیوں ہے؟
ہر احساس مچلتا کیوں ہے؟
سوچتی ہوں ،لکھ ڈالوں میں
میری ذات مکمل تجھ سے
جاناں تم تکمیل ہو میری
سوچتی ہوں ،لکھ ڈالوں میں
کوئی ناول، کوئی فسانہ،کوئی کہانی
کوئی شعر ،اچھوتا مصرع، غزل سہانی
لیکن میری ساری سوچیں تجھ کو سوچیں
میرے فن کے سارے حصے تیرے قصے
ساجن تجھ سے رو ح نے رشتہ جوڑ لیا ہے
اب میرے احساس نے تجھ کو اوڑھ لیا ہے
سوچتی ہوں ،لکھ ڈالوں میں

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے