ہوا چپ ہے صدا چپ ہے

ہوا چپ ہے صدا چپ ہے
مری طرزِ نوا چُپ ہے
کوئی مجھ کو بتائے تو
یہ کیوں ساری فضا چپ ہے
اُسی سے مانگنا ہے سب
مگر میری دُعا چپ ہے
ہے اک دریا اِن آنکھوں میں
پہ رونے کی ادا چپ ہے
دریچے تو کھُلے ہیں سب
مگر پھر بھی ہوا چپ ہے
مرے دکھ درد جو سمجھے
وہی میرا خُدا چپ ہے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے