خواہشیں ہوتی ہیں کیا کیا بارشوں کی رات میں

خواہشیں ہوتی ہیں کیا کیا بارشوں کی رات میں
میں ہوں اور ہے لمس تیرا بارشوں کی رات میں
مانگتے ہیں بھیگی رُت کے سارے منظر تیرا قُرب
اب میں سمجھاؤں اُنہیں کیا بارشوں کی رات میں
تیرگی میں غم کی سایہ بھی کہاں ہوتا ہے ساتھ
میں اگر ہوتی ہوں تنہا بارشوں کی رات میں
میں یہ سمجھی یہ بھی مارا ہے کسی کے ہجر کا
پھوٹ کر بادل جو رویا بارشوں کی رات میں
دن تو جیسے تیسے دنیا کے جھمیلوں میں کٹا
ہجر نے تیرے رُلایا بارشوں کی رات میں
منہ چھپائے ایک کونے میں پڑی تھی دم بخود
میری تنہائی بھی تنہا بارشوں کی رات میں
دامنِ قاتل پہ کوئی چھینٹ تک آئی نہیں
یوں ہُوا خونِ تمنّا بارشوں کی رات میں
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے