حسن کی تخلیق

حسن کی تخلیق

کالج میں شاہد ہ حسین ترین لڑکی تھی۔ اس کو اپنے حسن کا احساس تھا۔ اسی لیے وہ کسی سے سیدھے منہ بات نہ کرتی اور خود کو مغلیہ خاندان کی کوئی شہزادی سمجھتی۔ اس کے خدوخال واقعی مغلئی تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ نور جہاں کی تصویر جو اس زمانے کے مصوروں نے بنائی تھی، اس میں جان پڑگئی ہے۔ کالج کے لڑکے اسے شہزادی کہتے تھے، لیکن اس کے سامنے نہیں، پر اس کو معلوم ہو گیا تھا کہ اسے یہ لقب دیا گیا ہے۔ وہ اور بھی مغرور ہو گئی۔ کالج میں مخلوط تعلیم تھی۔ لڑکے زیادہ تھے اور لڑکیاں کم۔ آپس میں ملتے جلتے، لیکن بڑے تکلف کے ساتھ۔ شاہدہ الگ الگ رہتی۔ اس لیے کہ اس کو اپنے حسن پر بڑا ناز تھا۔ وہ اپنی ہم جماعت لڑکیوں سے بھی بہت ہم گفتگو کرتی تھی۔ کلاس میں آتی تو ایک کونے میں بیٹھ جاتی اور بت سی بنی رہتی۔ بڑا حسین بت۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں جن پر گھنی پلکوں کی چھاؤں رہتی تھی، ساکت وصامت رہتیں۔ لڑکے اسے دیکھتے اور جی ہی جی میں بہت کڑھتے کہ یہ حسن خاموش کیوں ہے، اس قدر منجمد کس لیے ہے اسے تو متحرک ہونا چاہیے۔ اس کا رنگ گورا تھا۔ بہت گورا جس میں تھوڑی سی غلط روی بھی گھلی ہوئی تھی۔ اگر یہ نہ ہوتی تو شکر کی بنی ہوئی پتلی تھی جو دیوالی کے تہوار پر بکا کرتی ہیں۔ اس میں مٹھاس تھی، لیکن وہ ظاہر یہ کرنا چاہتی تھی کہ بڑی کڑویلی کسیلی ہے۔ کالج میں اس کا رویہ ہی کچھ اس قسم کا تھا کہ ہر وقت نیم کی نبولی بنی رہتی تھی۔ ایک دن اس کے ایک ہم جماعت لڑکے نے جرأت سے کام لے کر اس سے کہا۔

’’حضور۔ خاکساری میں اپنی جگہ دے کرکبھی کسی کو سرفراز توکریں!‘‘

اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ دوسرے دن اس طالب علم کو پرنسپل نے بلایا اور اسے نکال باہر کیا۔ اس حادثے کے بعد تمام لڑکے محتاط ہو گئے۔ انھوں نے شاہدہ کودیکھنا ہی چھوڑ دیا کہ مبادا ان کا وہی حشر ہو، جو اس طالب علم کا ہوا۔ شاہدہ اب بی۔ اے میں تھی۔ خوبصورت ہونے کے علاوہ کافی ذہین تھی۔ اس کے پروفیسر اس کی ذہانت اور خوبصورت سے بڑے مرعوب تھے۔ پرنسپل کی چہیتی تھی۔ اس لیے کہ وہ اس کی بڑی بہن کے بڑے لڑکے کی بیٹی تھی۔ کالج میں چہ میگوئیاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔ شاہدہ کے متعلق قریب قریب ہر روز طالب علموں میں باتیں ہوتی تھیں۔ وہ اس کے متعلق کوئی بری رائے قائم نہیں کر پاتے تھے، اس لیے کہ اس کا کریکٹر بڑا مضبوط تھا۔ ٹک شاپ میں باتیں ہوتیں اور شاہدہ کا حسن زیر بحث ہوتا۔ سب سوچتے کہ یہ حسین قلعہ کون سر کرے گا۔ شاہدہ کو، جیسا کہ سب کو معلوم تھا، صرف خوبصورت چیزیں پسند تھیں۔ وہ کسی بدصورت چیز کو برداشت نہیں کرسکتی تھی۔ ایک دن کلاس میں ایک لڑکے کی رینٹھ بہہ رہی تھی۔ شاہدہ نے جب اس کی طرف دیکھا تو فوراً اٹھ کر چلی گئی۔ وہ بڑی نفاست پسند تھی۔ اس کو وہ ہرچیز کھلی تھی جو بدنما ہو۔ کالج میں ایک لڑکی جمیلہ تھی۔ بڑی بدصورت، مگر شاہدہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ذہین۔ اس کو وہ نفرت کی نگاہوں سے دیکھتی تھی۔ ویسے وہ اس کی ذہانت کی قائل تھی اور کوئی رشک محسوس نہیں کرتی تھی۔ کالج کے سب لڑکے سوچتے تھے کہ شاہدہ اگر حسین نہ ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ وہ اس سے بات چیت تو کرسکتے۔ مگر وہ اپنے حسن کے غرور میں سرشار رہتی اور کسی کومنہ ہی نہیں لگاتی تھی۔ ایک دن کالج میں ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ ایک لڑکا جس کے والد کی تبدیلی ہو گئی تھی، اس کالج میں داخلہ لینے کے لیے آیا۔ لڑکوں اور لڑکیوں نے اسے دیکھا اور ششدر رہ گئے۔ وہ شاہدہ سے زیادہ خوبصورت تھا۔ اس کا نام شاہد تھا۔ اس کو داخلہ مل گیا۔ جس کلاس میں شاہدہ تھی، اسی میں شاہد تھا۔ اتفاق کی بات ہے کہ جب شاہد پہلے روز کلاس روم میں آیا تو شاہدہ موجود نہیں تھی۔ اس کو زکام ہو گیا تھا اور اس کے باعث اس نے دو روز کے لیے چھٹی لے لی تھی۔ دو دن کے بعد جب شاہد کالج کے باغ میں ٹہل رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ ایک خوبصورت، مگر بے جان سی مورت آرہی ہے۔ اس نے اپنی کتابیں بینچ پر رکھیں اور آگے بڑھا۔ شاہدہ نے اسے دیکھا۔ وہ اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوئی اور تھوڑی دیر کے لیے اس کے قدم رک گئے۔ زمین گیلی تھی، کیچڑ سی ہورہی تھی۔ شاہد جب اس کی طرف بڑھا تو وہ گھبرا سی گئی۔ اس گھبراہٹ میں اس کا پاؤں پھسلا اور وہ اوندھے منہ زمین پر گر پڑی۔ شاہد نے لپک کر اسے اٹھایا۔ شاہدہ کے ٹخنے میں موچ آگئی تھی، مگر اس نے مسکرا کر کہا۔

’’شکریہ۔ آپ کون ہیں؟‘‘

شاہد نے جواب دیا۔

’’خادم!‘‘

’’آپ خادم تو دکھائی نہیں دیتے۔ ‘‘

’’کیا دکھائی دیتا ہوں۔ بعض اوقات صحیح شکلیں غلط دکھائی دیا کرتی ہیں۔ ‘‘

شاہدہ کو یہ بات پسند آئی۔ اس کے ٹخنے میں درد ہورہا تھا مگر وہ اسے چند لمحوں کے لیے بھول گئی۔

’’آپ کا نام؟‘‘

’’شاہد‘‘

شاہدہ نے سوچا کہ شاید وہ اس کا نام سن چکا ہے اور شرارت کے طور پر شاہد بن رہا ہے۔

’’آپ غلط کہہ رہے ہیں۔ ‘‘

’’آپ کالج کے رجسٹر سے اس کی تصدیق کرسکتی ہیں۔ ‘‘

’’آپ اس کالج میں پڑھتے ہیں؟‘‘

’’جی ہاں۔ آپ یہاں کیسے چلی آئیں؟‘‘

’’واہ۔ میں بھی تو یہیں پڑھتی ہوں۔ ‘‘

’’کس کلاس میں؟‘‘

’’بی اے میں؟‘‘

’’میں بھی تو بی اے میں ہوں۔ ‘‘

’’جھوٹ۔ آپ تو مالی معلوم ہوتے ہیں۔ ‘‘

’’اس شکل کے آدمی واقعی مالی معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ میں نے ابھی تک کوئی پھول نہیں توڑا۔ ‘‘

’’پھول کیا توڑنے کے لیے ہوتے ہیں۔ انھیں تو صرف سونگھنا چاہیے۔ ‘‘

شاہد ایک لحظہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ پھر اس نے سنبھل کر کہا۔

’’میں آپ کو سونگھ رہا ہوں۔ ‘‘

شاہدہ بھنا گئی۔

’’آپ بڑے بدتمیزہیں۔ ‘‘

شاہد نے بینچ پرسے کتابیں اٹھاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔

’’میں نے آپ کو توڑا تو نہیں۔ صرف سونگھ لیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی پنکھڑیوں میں سے غرور کی بو آتی ہے۔ اوہ، معاف کیجیے گا، غرور میں کرسکتا ہوں لیکن مردوں کے ساتھ۔ میں بھی ایک پھول ہوں، پر آپ کلی ہیں۔ میں آپ سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ‘‘

شاہدہ اپنا ٹخنہ پکڑے بیٹھی تھی۔ ایک دم کراہنے لگی۔

’’ہائے۔ ہائے، بڑا درد ہورہا ہے۔ ‘‘

شاہد نے اس سے اجازت طلب کی۔

’’کیا میں اسے دبا دوں؟‘‘

’’دبائیے۔ خدا کے لیے دبائیے۔ ‘‘

شاہد نے اس کے موچ آئے ہوئے ٹخنے پر اس طور پر مساس کیا کہ پندرہ منٹ کے اندر اندر شاہدہ کا درد دور ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد کالج میں وہ دونوں خالی پیریڈوں میں اکٹھے باہر جاتے اور باغ میں بیٹھ کر جانے کیا باتیں کرتے رہتے۔ شاید وہ یہ کوشش کررہے تھے کہ دونوں گیلی زمین پر پھسلیں اور ان کے دل کے ٹخنوں میں موچ آجائے اور وہ ساری زندگی ان کو سہلاتے رہیں۔ دونوں نے بی۔ اے پاس کرلیا۔ بڑے اچھے نمبروں پر۔ شاہدہ کے نمبر شاہد کے مقابلے میں پانچ زیادہ تھے۔ اس نے اس کا بدلہ لینا چاہا۔

’’شاہدہ! میں یہ پانچ نمبر ابھی لیے لیتا ہوں۔ ‘‘

’’کیسے‘‘

شاہد نے اس کو پہلی مرتبہ اپنی گود میں اٹھایا اور اس کو پانچ مرتبہ چوم لیا۔ شاہدہ نے کوئی اعتراض نہ کیا، وہ بہت خوش ہوئی۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد اس نے شاہد سے بڑی سنجیدگی سے کہا۔

’’ہمارے نمبر پورے ہو گئے۔ لیکن آج کے اس واقعے کے بعد میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ آپ کی میری شادی ہوجانی چاہیے۔ میں اپنے ہونٹ اب کسی اور کے ہونٹوں سے آلودہ نہیں کروں گی۔ ‘‘

شاہد بہت خوش ہوا۔ اسے یقین ہی نہیں تھا کہ اس کی دلی آرزو کبھی پوری ہو گی۔ اس نے اسی خوشی میں پانچ نمبراور حاصل کرلیے اور شاہدہ سے کہا۔

’’میری جان! میں اسی امید میں تو اب تک جیتا رہا ہوں۔ ‘‘

شاہدہ کے والدین نے اس کی شادی کی ایک جگہ بات چیت کی، مگر شاہدہ نے صاف صاف انکار کردیا کہ وہ کسی بدصورت مرد سے رشتہ ازدواج قائم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ بہت جھگڑے ہوئے۔ آخر شاہدہ نے بتایا کہ وہ اپنے ہم جماعت شاہد کو، جو بہت خوش شکل ہے، پسند کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی اور مرد کو اپنی رفاقت میں نہیں لے گی۔ اس کے ماں باپ شاہد کے والدین سے ملے۔ بڑے شریف اور متمول آدمی تھے۔ روشن خیال بھی۔ شاہد کو جب انھوں نے دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے ولایت جارہا تھا، لیکن اس کی خواہش تھی کہ پہلے شادی کرے اور اپنی بیوی کو ساتھ لے کر جائے تاکہ وہ بھی باہر کی دنیا دیکھے۔ جب والدین رضا مند ہو گئے تو ان کی شادی ہو گئی۔ وہ بہت خوش تھا۔ پہلی رات شاید نے اپنی بیوی سے کہا۔

’’ہمارا بچہ۔ لڑکی ہو یا لڑکا۔ جب پیدا ہو گا تو اسے دنیا دیکھنے آئے گی۔ ‘‘

شاہدہ نے پوچھا۔

’’کیوں؟‘‘

شاہد ہنسا۔

’’میری جان! تم اتنی حسین ہو۔ میں بھی کچھ بدشکل نہیں۔ ہمارا بچہ یقیناً ہم دونوں سے کہیں زیادہ خوبصورت ہو گا۔ ‘‘

ہنی مون منانے کے لیے وہ سوئٹزرلینڈ چلے گئے۔ وہ یہاں چار مہینے رہے۔ اس کے بعد لندن چلے گئے۔ جہاں شاہد کو پی، ایچ، ڈی کی ڈگری لینا تھی۔ شاہد کے باپ میاں ہدایت اللہ کی وہاں ایک کوٹھی تھی جو ان کی آمد سے پہلے ہی خالی کرالی گئی۔ شاہدہ بہت خوش تھی اور شاہد بھی، اس لیے کہ وہ ایک بچے کی آمد کا انتظار کررہے تھے۔ شاہدکہتا تھا۔

’’ہمارا بچہ اتنا حسین اور خوبصورت ہو گا کہ اس کا جواب نہ ہو گا۔ ‘‘

شاہدہ کہتی۔

’’خدا نظر بد سے بچائے۔ ضرور گل گوتھنا سا ہو گا۔ ‘‘

پورے دن ہوئے تو بچہ ہونے کے آثار پیدا ہوئے۔ شاہد نے اپنی بیوی کو میٹرنٹی ہوم میں داخل کرادیا۔ لیبر وارڈ کے باہر شاہد بڑے اضطراب میں ادھرسے ادھر ٹہل رہا تھا۔ اس کی نظروں کے سامنے ایک ایسے بچے کی تصویر تھی جس کے خدوخال اس کے اور اس کی بیوی کے آپس میں بڑے حسین طور پر مدغم ہو گئے ہوں۔ لیبر وارڈ سے نرس باہر آئی۔ شاہد نے لپک کر اس سے پوچھا۔

’’خیریت ہے؟‘‘

’’جی ہاں!‘‘

’’لڑکا ہوا یا لڑکی؟‘‘

نرس پریشان سی تھی۔ اس نے صرف اتنا کہا۔

’’پتہ نہیں لڑکا ہے یا لڑکی۔ پر ہم نے ایسا بچہ کبھی نہیں دیکھا۔ ‘‘

شاہد نے خوش ہو کرپوچھا۔

’’بہت خوبصورت ہے نا؟‘‘

نرس نے منہ بنا کر جواب دیا۔

’’بڑی اگلی ہے۔ اس کے سر پر ایسا معلوم ہوتا ہے سینگ ہیں۔ دانت بھی ہیں۔ ناک بڑی ٹیڑھی ہے۔ دو آنکھیں ہیں پر ایک آنکھ ایسا لگتا ہے ماتھے پر بھی ہے۔ تم لوگ اتنے خوبصورت ہو کر کیسے بچے پیدا کرتا ہے؟‘‘

شاہد اپنے بچے کو دیکھنے کے لیے نہ گیا۔ لیکن دوسرے دن میٹرنٹی ہوم میں ٹکٹ لگا دی گئی کہ جو آدمی چاہے، اس عجیب الخلقت بچے کودیکھ سکتا ہے۔

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے