Husn Kab Ishq Ka

حُسن کب عشق کا ممنونِ وفا ہوتا ہے

لاکھ پروانہ مرے شمع پہ، کیا ہوتا ہے

شغل صیّاد یہی صبح و مسا ہوتا ہے

قید ہوتا ہے کوئی، کوئی رِہا ہوتا ہے

جب پتا چلتا ہے خوشبو کی وفا داری کا

پھول جس وقت گلستاں سے جدا ہوتا ہے

ضبط کرتا ہوں تو گھٹتا ہے قفس میں مرا دم

آہ کرتا ہوں تو صیّاد خفا ہوتا ہے

خون ہوتا ہے سحر تک مرے ارمانوں کا

شامِ وعدہ جو وہ پابندِ حنا ہوتا ہے

چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا وہ مجھے

چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے

قمر جلال آبادی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے