خوشبو

خوشبو
کل، ملبوس نکالا اپنا، ہلکا، کاسنی رنگت کا
دھڑ سے ، کھول کے دل کے پٹ کو
خوشبو ،سن سن کرتی آئی
جیسے نیل کنارے پر لہراتا اک چنچل آنچل
جیسے سرد اماوس میں کُرتا جھلمل تاروں کا
جیسے سرخ گلابوں کی رم جھم کے پھندنے کلیاں
جیسے رات کی رانی بن کے جھالر سر سر کرتی ہو
جیسے چمبیلی چمپا کے گہنے ہاتھوں سے لپٹیں
جیسے سبزے پر مخمل کی گرگابی کے نگ دمکیَں
جیسے بوگن ویلیا کے سب گرتے ہوئے گھنگھرو چھنکیں
جیسے ہار سنگھار کا ریشم نارنجی چہرہ کو پونچھے
جیسے بنفشے کی مسکانیں درد اُدھیڑیں ،سیون سیون
جیسے سدا بہار کے چھلے پہنے کوئی انگلی میں
جیسے نرگس ، نیلے پیلی، ڈورے ڈالے نیناں میں
لیکن رجنی گندھا کی سوکھی سوکھی شاخ پہ اٹکی
ایک کلی نے یاد مجھے وہ سوندھی سی پہنائی ہے
جس کی قبر کو گیندے کی چادر سے
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے