خوشبو کی کوئی منزل نہیں

خوشبو کی کوئی منزل نہیں
سکھ وَنت کی زبان سے وہ بات ہزار بار سننے پر بھی ہمیشہ نئی معلوم ہوتی کہ تخلیق کے لمحے آوارہ تتلیوں کی طرح ہوتے ہیں، جو کبھی ایک پھول پر جا بیٹھتی ہیں، کبھی دوسرے پر یا یہ کہ گھوڑی اس وقت تک بوڑھی نہیں ہوتی جب تک گھوڑا بوڑھا نہیں ہوتا اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔
آتش دان کے دہکتے انگاروں کی طرح نہ جانے کیسے کیسے خیالات اس اسٹوڈیو میں جنم لیتے رہتے۔ پریوال اسٹوڈیو، یہ نام بھی برا نہ تھا۔ کوئی نہ کوئی نامکمل بُت تخلیق کے لمحوں کا انتظار کرتا رہتا۔ کمرشیل آرٹ جس سے پریوال اسٹوڈیو کی زندگی قائم تھی۔ نٹ کھٹ بانکی چھیلی سوت کی طرح سکھ وَنت کی انگلیوں کو چومتا چلا جاتا اسٹوڈیو۔ لیکن تخلیق کے لمحوں کی یاد بھلائے نہ بھولتی اور وہ ڈیزائن میں رنگ بھرتے بھرتے کہتا۔ ’’سر سے پیر تک بھیگی ہوئی جل پری کی طرح کوئی نہ کوئی مورتی خود میرے دل کا دروازہ کھٹکھٹانے چلی آتی ہے۔‘‘
اسٹوڈیو کے سامنے پیپل کے پتے تالیاں بجاتے رہتے۔ ادھر کوڑے کے ڈھیر پر مرغیوں کا آرکیسٹرا بجتا رہتا۔ اُدھر ہم کسی نہ کسی کی ٹانگ کھینچتے رہتے۔
سکھ وَنت کسی نہ کسی ڈیزائن پر جھکا جھکا موجو لینے کا تاثر قائم رکھتا جیسے کوئی ملاح کشتی کو ڈبو کر خود لطف اندوز ہو رہا ہو۔
اسٹوڈیو کی صفائی کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ لیکن ہم لوگوں کا یہ حال تھا کہ جتنے منھ اتنی باتیں۔ باہر کوڑے کے ڈھیر پر کبھی تیتر کے، کبھی بٹیر کے اور کبھی مرغے کے نچے ہوئے پَر دیکھ کر ہمیں اپنے نچے ہوئے جذبات کا دھیان آئے بغیر نہ رہتا۔
جے پال چائے کا گھونٹ بھر کر کہتا۔ ’’تو سکھ وَنت جی آبو چلنے کا پروگرام بنایئے نا۔‘‘
’’آبو بھی کوئی منتر ہے جس کی ہر وقت مالا جپی جائے‘‘ راجندر قہقہہ لگاتا۔
تم آبو کے پس منظر میں ایک ناول لکھو، راجندر جے پال نے گویا آبو کی لطیف سی یادوں کا اگربتّی کی خوشبودار دھوئیں کے حلقوں کی طرح جائزہ لیتے ہوئے کہا ’’کوئی بات نہیں بنتی۔ کوئی درد نہیں جاگا! پیارے! ویسے وہ تشبیہ خو ب ہے کہ آدھی رات یوں آئی جیسے لجاتی شرماتی دُلہن آتی ہے۔ سچ سچ بتاؤ افسانوں کا چکر چھوڑ کر ناول لکھنا کب شروع کروگے؟‘‘
’’ناول لکھنے کا وعدہ تو پہلے جے پال کو پورا کرنا چاہیے‘‘ کاشی ناتھ نے میری طرف دیکھ کر کہا۔ ’’اتنی سخت ریاضت کے بعد بھی آپ چمتکاری پُرش نہ بن سکے۔‘‘
قہقہوں کی بارش ہونے لگی۔
پتھر کا نامکمل بت تخلیق کے انتظار میں بوڑھا ہوگیا۔
جے پال کو اندھیرے کی جھیل میں ڈبکی لگا کر اُبھرتی کرن کے انداز میں بات کرنا پسند تھا۔
راجندر اس شاعر سے متفق ہونے کی کوشش کرتا جس نے کہا تھا کہ آسمان پر چاند ایک لمحہ ہے اور غمِ دوراں ہو یا کسی انسان کی پوری عمر وہ بھی تو ایک لمحہ ہے۔
کاشی ناتھ کی آواز سمٹی مٹھی کی شکل اختیار کرلیتی۔ وہ رادھا کو زہرہ بنا ڈالتا اور قلوپطرہ کو اُروشی۔ اس کی باتوں میں ہوائیں سنکھ بجانے لگتیں۔ رات کی رانی کا دوپٹہ ڈھلک جاتا۔ راگنی جے جے ونتی خوشبو کی سیج پر جاگ اُٹھتی اور وہ میری طرف دیکھ کر کہتا۔
اب تو اس کا ایک ہی علاج ہے کہ آپ ایک ایک کر کے سبھی کپڑے اتار کر سر تا پا کرشمہ ہونے کا ثبوت دیجیے، تالیاں بج اٹھتیں۔ لیکن مجھے تاؤ نہ آتا۔
کوئی نہ کوئی کسی کی خامی کا انکشاف کرنے کی کوشش جاری رکھتا۔
سچ اور جھوٹ کے درمیان توازن قائم رکھنے کی خاطر کبھی کبھی معذرت کا انداز اپنایا جاتا۔ ایک دوسرے کا راز اُگلنے کی نیّت سے ہم بڑے بڑے شعبدہ بازوں کو مات دے دیتے جیسے ٹانگ کھینچنا ہی ہماری شخصیت کا اصل روپ ہو۔
سکھ ونت آواز میں لوچ لاکر کہتا ہے۔
’’میں تو یہ بات اپنے بڑے بڑے دشمن کے سامنے کہنے سے بھی گریز نہیں کروں گا۔ کہ گم نام سے گم نام لوگ بھی اپنی اپنی سوغات لائے اور شہد کی طرح میرے علم میں اضافہ کرتے رہے اور اب میں آپ لوگوں کی روشن چوکی کو نیک شگون سمجھتا ہوں۔‘‘
اپنی تعریف سن کر ہم پھولے نہ سمائے۔
سکھ وَنت کی بات اَن سنی کرتے ہوئے جے پال کسی غیر ملکی ادب کے شاہکار کا حوالہ ربڑ کی گیند کی طرح اُچھالتا ہے۔
راجندر یہ شکایت کرتا کہ انسان کا بیش قیمت وقت تو روٹی کا ایندھن بن جاتا ہے۔
کاشی ناتھ سب پر لعنت بھیجنے کے انداز میں کہتا!
’’کچھ نہ کرنا کمال کرنا ہے‘‘
سکھ ونت ڈیزائن پر جھکا ہوا مبہم سے نقوش اُبھارتا رہتا۔ جیسے خوابگاہ کی کھڑکی کے شیشے پر سورج کی کرنیں مسکرا رہی ہوں۔
جے پال اپنے کسی افسانے کا موازنہ موپساں کی ’’چربی کی گیند‘‘ سے کرنے لگتا تو راجندر اس ہوٹل کا قصّہ لے بیٹھتا جسے اس نے ڈھائی برس تک متواتر نقصان اُٹھانے کے بعد بیچ باچ کر اب ایک ریستوراں میں نوکری کرلی تھی۔
کاشی ناتھ دلّی کا گن گان کرتے ہوئے کہتا!
’’یہ تو سدا سہاگن ہے، اس کی مانگ کسی نہ کسی کے لہو سے بھرتی ہی رہے گی۔‘‘
ہم آرزوؤں کے چہروں پر پھیلے تاثرات کو سمیٹنے کا جتن کرتے رہتے اور اکثر بلندی کے قدم لیتے لیتے پستی میں جا گرتے۔
عہدِ پارینہ کی ہر روایت کا منھ چڑاتے ہوئے ہم یہ کہنے سے گریز نہ کرتے ۔ یہ دیوار جو غم کھا کر رہ گئی کسی بھی وقت گر سکتی ہے۔
سکھ وَنت جیسے منھ کا ذائقہ بدلنے کے لیے اپنا خیال کسی دھرم گرنتھ کے حوالے کی طرح پیش کرنے لگتا۔
’’یہ کون سا خوف ہے جس سے ہمارا غم پتھرا کر رہ گیا۔ سانپ اور نرتکی کہو چاہے نرتکی اور سانپ! ان دونوں سے خوف تو ہر حال میں آتا ہی ہے۔ اور یہ جے پال تو سانپ کو بھی دودھ پلانے کا دعویٰ کرتا ہے۔
یوں کوئی روشنی جاگتی رہتی۔ کوئی فن کار رانجھا الکھ جگا کر پریوال اسٹوڈیو کے سامنے سے گذر جاتا۔
ہر رات آنی جانی تھی۔
اسٹوڈیو کے ایک کونے میں رکھی جل پری کی مورتی ندی یا جھیل سے دور گرد کی موٹی تہوں کے نیچے منھ بسورتی سی نظر آئی۔
سکھ وَنت نے کہنا شروع کردیا۔
’’کیا ہزاروں سوالوں کا ایک جواب ہمیں سچائی کی گپھا تک لے جاسکتا ہے؟‘‘
جے پال وہ بول اَن سنا کرتے ہوئے راجندر کے کسی افسانے کی تعریف کرنے لگا۔
’’عنوان تو بُرا نہیں۔ آئیں پجاری ، جائیں پجاری، لیکن آرتی کا سُر نہیں اُبھرا نہ خوشبو کا شنکھ گونجا۔ نہ روشنی کی گھنٹیاں بجیں نہ دیوداسی ناچ کے آنگن میں من کی اداسی مٹانے آئی۔‘‘
ہمارے ذہن یوں کسی نہ کسی افسانے کی گلی میں جا نکلتے۔ کبھی لذّت شعلہ بن جاتی اور کبھی جسم سے روح کی دوری ایک وسیع خلیج کا روپ دھار لیتی اور تخلیق کا لمحہ کبھی روزن سے جھانکنے لگتا کبھی کھڑکی سے۔
کاشی ناتھ نے مسکرا کر کہا۔
عورت کی کوکھ نے جس شعلے کو جنم دیا وہ سب سے پہلے اسی کوکھ پر لپکا۔ یہی حالت ہمارے فن اور فنکار کی ہے۔
میں بھی چپ نہ رہ سکا!
’’ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوں۔ ویسے اپنے سکھ ونت کا تو یہ حال ہے کہ نہ تو پامال موضوع سے دوستی کی ہے نہ الٹرا ماڈرن انداز سے دشمنی کرنا اس کے بس میں ہے۔ جڑیں پاتال میں چوٹی آسمان میں لیکن پھیلیں گے جہان میں۔‘‘
ہماری باتوں کے کنگن کھنکتے رہتے اور ہم باتوں ہی باتوں ایک دوسرے کے سایے کی لمبائی ناپنے کی کوشش کرتے رہتے۔
باتوں باتوں میں دریا رخ بدل لیتے اور چشمے سوکھ جاتے۔ جہاں آبشار وہاں دلدل، دعا بے کار لیکن بددعا لگنے کو تیار۔
کبھی یہ خیال اچھالا جاتا کہ دنیا بھر کے لوگ تین قسم کی مٹی سے بنے ہیں۔
کبھی چاند کی طرف منھ کرکے رونے والے کتے کی حالتِ زار پر تبصرہ شروع ہو جاتا۔
آندھی آئے لُو چلے۔ سکھ ونت کہنیاں پھیلائے کمرشیل ڈیزائن پر جھکا دوستوں کی چیخ چیخ کا مزہ لیتا رہتا۔
’’یہ تقدیر کا پھیر ہے کہ جے پال کا وہ ناول بیچ میں لٹک رہا ہے تِرشُنکو کی طرح۔‘‘
سکھ ونت نے مسکرا کر کہا۔ ’’جے پال جی اپنے ناول کے پیر دھرتی پر نہ لگنے دیجیے، دفتر پڑھتے جائیے۔ پہلا مسودّہ پسند نہیں تو دوبارہ لکھیے، سہ بار لکھیے۔ حتیٰ کہ نہ لکھتے ہوئے بھی لکھتے جائیے۔۔۔‘‘
قہقہوں کی پھلجھڑیاں فضا میں بکھر گئیں۔
سکھ ونت نے گمبھیر ہوکر کہا۔
’’اگر میں جے پال کی جگہ ہوتا تو ایسا ناول لکھتا کہ پڑھنے والا خودکشی کرلیتا۔۔۔
کاشی ناتھ نے چٹکی لیتے ہوئے کہا!
’’ہاں صاحب! جو خودکشی نہیں کرسکتا وہ دوسروں کو خودکشی کی تلقین ضرور کر سکتا ہے۔‘‘
راجندر اور جے پال نیلے نیلے رنگوں کی طرح گھل کر سبز رنگ کی جھلکیاں پیش کرنے لگے لیکن کاشی ناتھ قریب ہو کر بھی نہ تو گھلنے کو تیار تھا اور نہ سایے کی طرح خاموش رہ سکتا۔
کاشی ناتھ نے بازو لہرا کر کہا!
’’جے پال کا ناول تو شہر میں گھسنے والے گیدڑ کی موت مارا گیا۔‘‘
سکھ ونت نے اپنا قصّہ چھیڑ دیا۔
’’مجھے تو شہنائی پر بجنے والی میاں کی ٹوڈی بھی سانپ کی طرح ڈستی ہے۔ واقعی ہمارا قیمتی وقت بغیر اُجرت کے ہی بک جاتا ہے۔ جیسے کمرشیل آرٹ کے لمحے مداری کے بندروں کی طرح ناچتے رہتے ہیں۔ میں تو اس ڈگڈگی پر لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘
ہماری گفتگو کی سیڑھیاں کبھی آکاش کی طرف اُٹھنے لگتیں کبھی پاتال میں اُتر جاتیں۔ اکثر آپس میں چخ چخ ہو جاتی۔ جیسے خوشبو کے سفر میں کانٹوں کی رفاقت بھی ضروری ہو۔
پریوال اسٹوڈیو طرح طرح کی سرگوشیوں کا مرکز بن چکا تھا۔ جہاں ہر سرگوشی بغیر پان59و کی ضربوں کے مسافت طے کرنے کا دعویٰ کرتی رہتی۔
ہماری گفتگو میں یادوں کی سیاہ بدلیاں چھائی رہتیں جیسے ہم قبرستان میں بھٹک رہے ہوں۔ کبھی ہم یوں بات کرتے جیسے کوئی کم ظرف شرابی اپنی پہچان کے صوفی پر گالی اُچھال دے۔ کبھی کسی تشبیہ میں گوبر کی بو آنے لگتی، کبھی ہم ایک دوسرے کی دلیل کو اَدھ جلی سگریٹ کی طرح ایش ٹرے میں مَسل دیتے۔
کمرشیل آرٹ کا کام چلتا رہتا۔ نقوش اُبھرتے رہتے۔ بات سے بات نکلتی رہتی اور ہماری گفتگو میں کبھی دیواریں چھٹیوں کا مذاق اُڑانے لگتیں تو کبھی چھت بنیادوں کو بوگس قرار دے دیتی۔
راجندر نے اپنے کسی افسانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا۔
’’میں نے اپنے مرکزی کردار کے خلوص کا تو خیرمقدم کیا ہے اور اس کے کام میں روح کا نور دکھانے سے بھی گریز نہیں کیا لیکن اس کی روشن چوکی کو میں نے حجلۂ تاریکی سے تعبیر کیا ہے۔ وہی سایے وہی روشنی، وہی دماغ کے چوردروازے اور وہی شاہکار مقولہ۔۔۔ مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ۔
ہم سمجھ گئے کہ راجندر کا اشارہ سکھ ونت کی طرف ہے لیکن سکھ ونت نے اس پہلو پر پردہ پوشی کے انداز میں طویل قہقہہ لگاتے ہوئے کہا ’’لیجیے چائے آگئی۔‘‘
جے پال نے راجندر کی بات اَن سنی کرتے ہوئے جیب سے وِٹامن اے اور وِٹامن بی کی شیشیاں نکال کر گولیاں تقسیم کرنی شروع کردیں۔
کاشی ناتھ نے چائے میں چینی ڈالتے ہوئے کہا۔
’’صحت کی بجائے بیماریاں کیوں بانٹتے پھرتے ہو ’’پیارے۔‘‘
’’جے پال کو یہ گولیاں سرکاری ہسپتال سے مفت ملتی ہیں‘‘ سکھ ونت نے ہنس کر کہا۔ ’’چائے ٹھنڈی ہورہی ہے۔ حاتم طائی پیچھے بننا۔‘‘
چائے کی پیالیوں میں طوفان آتا رہا۔ رنگوں، خوشبوؤں اور شعلوں کا طوفان۔
الٹی سیدھی باتوں کے ساتھ چائے رفاقت کو بھی ہوا دیتی رہی۔
میں بیٹھا سوچتا رہا کہ آگ کے پاس بیٹھنے سے واقعی پیاس نہیں بجھتی۔ پھر بھی وہاں سے اُٹھنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ میں نندی گن کی طرح وہاں بیٹھا جگالی کرتا رہا۔
’’مجھ سے کوئی پوچھے کہ کس جانے پہچانے خوف کی تحت یہاں ڈٹا بیٹھا ہوں‘‘ میں نے گمبھیر آواز میں کہنا شروع کیا۔ راہ چلتے لوگ مجھے وِش پان کے لیے مجبور کرتے رہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کبھی کبھی میں ایک آدھ قطرہ اپنے ان کرم فرماؤں کے منھ میں بھی ڈال دیتا ہوں تاکہ وہ اس زہر کا ذائقہ تو چکھ لیں۔ اگر چہ مجلس ختم ہونے سے پہلے پہلے معذرت کا اظہار بھی مجھے ہی کرنا پڑتا ہے۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں میں نے زندگی کو کیا دیا۔‘‘
’’آپ کی شکایت تو یہ ہونی چاہیے کہ آپ کو زندگی سے کچھ نہیں ملا۔۔۔ سکھ ونت نے میری بات کاٹ کر کہا، خیر چھوڑیئے میں تو آبو کا ذکر کر رہا تھا۔‘‘
جے پال نے گفتگو کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے کہا۔
’’آبو بظاہر اراولی کی ایک چوٹی کا نام ہے۔ لیکن دراصل وہ ہمالہ کا ایک ٹکڑا ہے جسے برہما کی اچھّا پر شیش ناگ اپنے پھن پر اُٹھاکر وہاں لائے تھے۔ یہ بڑی دلچسپ داستان ہے جسے میں نے اپنے ناول میں پیش کیا ہے۔ اور وہاں ہریالی تو بس اسی حصّے میں ہے چاروں طرف علاقہ ویران ہے۔ دور دور تک مہیب چٹانیں پھیلی ہوئی ہیں جو باد و باراں کے سبب ایسی ایسی شکلیں اختیار کرگئی ہیں کہ ان پر انسانی مجسموں کا گمان ہوتا ہے۔ باقی رہی بات کہ ہم نے زندگی کو کیا دیا یا زندگی سے کیا لیا یہ بحث بہت طویل ہے۔۔۔
کاشی ناتھ نے بازو لہرا کر کہا۔
’’تم جدید افسانہ نگار ہو۔ اس روایت میں ترمیم کرلو ہمالہ کے اس ٹکڑے کو شیش ناگ پھن پر اُٹھاکر نہیں دُم سے باندھ کر کھینچتے ہوئے لائے ہوں گے۔۔۔
جے پال نے لطیف انداز میں گویا کاشی ناتھ کی دُم پر پان59و رکھتے ہوئے کہا۔
’’دیکھیے آبو کی جھیل اب تک نکی جھیل کہلاتی ہے جس کا پانی وہاں کے راکشش نے شیش ناگ سے ناراض ہوکر پی لیا تھا۔ لوگ پیاس سے تڑپنے لگے اور شیش ناگ کے اشارے پر لوگوں نے اپنے ناخنوں سے اس جھیل کو کھودنا شروع کردیا اور پانی نکل آیا۔‘‘
’’اس کا مطلب ہے کہ انسان کو تکمیلِ آرزو کے لیے اپنی جھیل خود کھودنی پڑتی ہے۔ اور ایک بات یہ بھی ہے کہ تم اس جنم سے پہلے بھی افسانہ نگار کے روپ میں پیدا ہوچکے ہوگے۔ اور یہی تمھاری روایتی علامت ہے، پیارے!‘‘
بیضوی، گول، مخروطی اور نوکیلی آوازیں آپس میں ٹکراتی رہتیں۔ سکھ ونت منھ لٹکائے بیٹھا رہتا۔ جیسے زمین سورج سے جدا ہورہی ہو، کاشی ناتھ گمبھیر نظر آنے لگتا جیسے زمین اپنے صحیح مرکز کے گرد گھوم رہی ہو۔ جے پال کے چہرے پر محرومیت کا احساس اُبھر اٹھتا جیسے کوئی سیارہ فلک سے اکھڑ چکا ہو۔ راجندر کے چہرے پر گویا یہ تحریر نمایاں ہونے لگتی کہ جوالا مکھی کے لاوا گلنے سے پتھر پھٹ گئے ہوں۔
پیچھے دھکیلنے اور تھپکی دینے کے انداز میں تال میل رکھنے کی کوشش جاری رہتی ۔
راجندر اور جے پال میں یہ بحث شروع ہوجاتی کہ ان میں باوقار عاشق کون ہے۔ ہماری نظر میں کاشی ناتھ کی طرف اُٹھ جاتیں جسے ہم لیڈی کِلر مانتے تھے اور پھر یہ لیڈی کِلر والا لطیفہ شٹنگ کرتے انجن کی طرح شوں کر کے نکل جاتا۔
سکھ ونت کی حالت اس چکور کی طرح نظر آتی جو انگارے کو چاند سمجھ کر اُڑنے کو بیتاب ہو، اور وہ پھر سے گرم چائے منگواکر اپنی کلپنا پر خود ہی جھوم اُٹھتا جو اس نے جے جے وَنتی کی مورتی میں پیش کی تھی۔
اسٹوڈیو کے پاس سے کوئی ماڈرن چہرہ آئینے میں جھلملاتے عکس کی طرح گذرتا تو ہماری نظریں ایک ساتھ بڑے شیشے سے ٹکراتیں جیسے حسن و عشق کی تلاش کسی تردید کی محتاج نہ ہو۔
یک بیک یہ اعلان کرتے ہوئے کہ جے پال سات بار اپنے ناول کا مسودہ نذر آتش کر چکا ہے۔ سکھ ونت بڑے مزے مزے سے جے پال کو بوگس ڈیکلیر کردیتا۔
اسی سال سکھ ونت کے فنِ بُت تراشی کی تیسری نمائش ہوئی تو ڈاکٹر صابری نے اس کی تخلیقی صلاحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے خاص طور پر جے جے وَنتی، جل پری، ناکام انسان، باگیشتری، کنواری ماں اور پرایا شہر کی بے حد تعریف کی۔
ہم جب بھی پریوال اسٹوڈیو میں اکٹھے ہوتے تو سکھ ونت کو چھیڑتے۔
’’ڈاکٹر صابری کی جھولی میں شہرت مسکراتی ہے۔۔۔‘‘
راجندر نے بڑے لطیف انداز میں کہا۔
’’ڈاکٹرصابری نے تو گھوشال کی بھی بہت تعریف کی ہے۔۔۔‘‘
سکھ ونت نے اخبار کا پرانا تراشا فائل سے نکال کر دکھاتے ہوئے کہا۔
’’آپ ڈاکٹر صابری کا نوٹ میرے متعلق ایک بار پھر پڑھ لیجیے۔‘‘
میں بیٹھا سوچتا رہا کہ ہم سب بونے ہیں۔
میں شیشے سے باہر جھانکنے لگا جہاں ڈھلتی دوپہر کے وقت کوڑے کے ڈھیر پر نُچے ہوئے پَر ہوا سے سرگوشیاں کرتے معلوم ہوتے تھے۔
راجندر نے ناک سکوڑ کر کہا۔
ہمارے نقاد کوئی خدمت سر انجام دینے کی بجائے پبلک کو گمراہ کر رہے ہیں۔
’’ڈاکٹر صابری کا جواب نہیں‘‘ سکھ ونت کہتا چلا گیا، ان کی وسیع النظری کی داد دینی پڑتی ہے۔ میں ان کے ٹیسٹ کو بخوبی سمجھ گیا ہوں۔
مجھے ایک ضروری کام سے ٹی ہاؤس جانا تھا۔ لیکن مجھے یہ ڈرتھا کہ میرے یہاں سے اُٹھتے ہی میرا کچا چٹھا کھل جائے گا۔
میں وہاں بیٹھا اس کہاوت کا رس لیتا رہا کہ مرد جس جگہ خیمہ گاڑ دے وہیں رونق ہو جاتی ہے۔
سکھ ونت راجندر سے آنکھ بچا کر اپنے جے پال پر جھپٹا۔
’’روشنیوں کے شہر تک پہنچنا علامہ باطل کے بس کا روگ نہیں۔‘‘
میں بیٹھا سوچتا رہا کہ یہ تلخی روز بروز تلخ سے تلخ تر کیوں ہوتی جارہی ہے۔ کیا واقعی اس کے پیچھے سکھ ونت کی تیسری نمائش میں تیسرے پیگ کا ہاتھ ہے۔
میں نے اس روز جے پال کے متعلق پوچھا تو سکھ ونت نے فوراً اذیّت پسندی کی کیتلی آگ پر چڑھاتے ہوئے نمائشی انداز میں کہا۔
دہن تیری کی، تین پیسے کا گھن چکّر! چڑیا کا غلام! جینس کی راہ میں پیتل کے سانپ پھنکار مارنے سے رہے۔ واقعی علامہ باطل کا ناول تو پیدا ہونے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔
آخر جے پال پریوال اسٹوڈیو کا راستہ بھول گیا۔
ایک روز راجندر نے مجھے لنچ پر بلاکر خاص طور پر بتایا۔
’’دیکھو تم ان بونوں میں کہاں آٹپکے؟ تم گریٹ ہو۔‘‘
میں نے بڑی مشکل سے حلق سے نوالہ اُتارا۔
میں کہنا چاہتا تھا کہ بھائی راجندر یہی بات تو اس روز لکشمی ریستوراں میں بیٹھے بیٹھے کاشی ناتھ سے کہہ رہے تھے۔ میں اتفاق سے اس کیبن کے قریب کسی کا انتظار کر رہا تھا۔
مجھے یہ ڈر تھا کہ اگر کہیں میں نے یہ بات کھلم کھلاّ کہہ ڈالی تو راجندر مجھ سے لنچ کا بل دھرا لے گا۔
میں جب بھی پریوال اسٹوڈیو جاتا سکھ ونت کو روشن اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے دیکھتا میں اس سے یہی کہتا!
ایک جن جائے دو جائے۔ گاندھی جی نے کہا ہے جوت سے جوت جلے۔ چھوڑو یار کسی نے کچھ بھی کہا ہو۔ جے پال کو گولی مارو۔ ہوسکے تو یار کاشی ناتھ کو شیشے میں اُتارو۔ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔
ایک روز میں کوئی ہفتہ بھر غیرحاضری کے بعد پریوال اسٹوڈیو گیا تو سکھ ونت نے راجندر پر لعنت بھیجتے ہوئے کہا۔
’’یار یہ جے پال تو بھُوسے کا ڈھیر نکلا اور اس پر وہ چنگاری راجندر نے پھینک دی۔‘‘
’’کہیں سرِ راہ جے پال مِل جاتا تو وہ اپنا زہر سکھ ونت پر اُگل دیتا۔‘‘
واقعی سکھ ونت اور جے پال ایک دوسرے پر بُری طرح چھا گئے تھے۔
وہ جس قدر ایک دوسرے کا مذاق اُڑاتے اتنے ہی مضحکہ خیز نظر آنے لگتے۔
کبھی سکھ ونت بتاتا کہ آج کل کام کا رش بہت بڑھ گیا ہے، کبھی مصروفیت کی بات چھوڑ کر کسی آفیسر کی شکایت کردیتا جو اس کی محبوب مورتی جے جے ونتی اُٹھاکر لے گیا۔
وہ کہتا چلا گیا۔
’’دیکھیے میں نے نمائش کے دوران وہ مورتی سات ہزار میں بھی نہ بیچی۔ ابھی اس روز ڈاکٹر صابری یہاں آئے تو اس کالے پتھر کی اس مورتی کی تعریف کے پل باندھتے رہے۔ مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ میرا افسر دوست اسی مورتی کو اُٹھاکر لے جائے گا۔‘‘
وہ دیر تک ڈاکٹر صابری کی تعریف کرتا رہا۔ جنھیں جمیلہ سے بے پناہ عشق تھا۔ اب تو جمیلہ کی مورتی بنانی ہوگی جس کے گیسوؤں سے نہ جانے کیسی کیسی خوشبو لپٹیں مارتی رہتی ہے۔‘‘
جو کبھی سرگوشیوں کا رسیا تھا زیر لب بات کرنے لگا اور اب توسکھ ونت زیر لب بولنے کی عادت اپنا رہا تھا۔ کمرشیل ڈیزائن میں رنگ بھرتے بھرتے برش روک کر سکھ ونت نے اپنی کسی مورتی کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔
’’لذت سے بے نیاز، عمل سے بے نیاز، طلب سے بے نیاز، بتائیے وہ کون سی شے ہے؟ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنی روح کے ساز پر میاں کو ٹوڈی چھیڑتے ہیں۔ ہمارے ڈاکٹر صابری بھی خوب انسان ہیں۔ اُن کے اُداس چہرے پر ذہین آنکھیں چمکتی ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ میں کون سی مٹی کا بنا ہوا ہوں لیکن اُن کی تنقید کی روشنی میں میری آنکھیں چندھیانے لگتی ہیں۔ اُس روز وہ سرِ راہ مل گئے جمیلہ ان کے ساتھ ۔ اب صاحب ۔ جمیلہ بولی۔۔۔ میری مورتی کب بنائیے گا۔ میں نے کہا۔ دیر نہ ہوگی۔ اگر ڈاکٹر صاحب اجازت دیں تو میں آپ کو سرخ پتھر میں للت راگنی کے روپ میں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب بولے ’’بصد شوق۔ خیر میں نے ڈاکٹر صاحب کو اپنے موڈ میں پاکر یہ سوال کر ڈالا کہیں میری پروگریس ایک جگہ پہنچ کر جام تو نہیں ہوگئی؟‘‘ اس کے جواب میں انھوں نے کہا۔ ’’میں کبھی تفصیل سے بتاؤں گا۔ شہرت کے لیے اپنے ایڈوائزر کو مٹھی میں رکھنا نہایت ضروری ہے۔‘‘
کاشی ناتھ نے سنجیدگی سے کہا۔
’’نقاد کے کندھوں پر کھڑا ہونا فنکار کی توہین ہے۔‘‘
’’یہاں تو جو بھی آتا ہے خوشبو لے کر ہی جاتا ہے۔‘‘ سکھ ونت نے کاشی ناتھ کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
’’خوشبو؟‘‘ کاشی ناتھ بڑبڑاتا ہوا باہر چلا گیا۔
میں نے دل ہی دل میں کہا۔ اے دانش و شاعر! آج سے تم مردہ قرار پاگئے۔‘‘
اسی شام ٹی ہاؤس میں چائے پیتے ہوئے سکھ ونت نے کہا۔
’’کاشی ناتھ کی تازہ نظم دیکھی نہ جائے ہمارے ایڈیٹر صاحبان ایسی نظمیں کیوں شائع کردیتے ہیں۔‘‘
میں نے مسکرا کر کہا۔
’’نہ سر نہ پیر۔ لعنت بھیجئے اس نظم پر۔ کاشی ناتھ کا بچہ! سناب کہیں کا!‘‘
اتنے میں کاشی ناتھ آنکلا۔
’’جسے لینے بھیجا تھا وہ نہیں آیا اور آپ نے خواہ مخواہ ہم سب کو ذلیل کردیا۔‘‘ کاشی ناتھ نے کھڑے کھڑے کہا۔
’’وہ تو جس گپھا سے آیا تھا وہیں چلا گیا، سکھ وَنت مسکرایا۔‘‘
’’تو اُس گپھا کا ڈیزائن بھی آپ نے بنایا ہوگا۔ کاشی ناتھ چپ نہ رہ سکا، اور دیکھیے وہ ڈیزائن آپ کا کمرشیل کارنامہ ہے یا فنی شاہکار یہ تو آپ ہی بہتر جانتے ہوں گے۔‘‘
’’کمرشیل آرٹ اور فنی تخلیق کے درمیان میرا دو تین گھنٹے کا فاصلہ تو ہمیشہ قائم رہتا ہے‘‘ سکھ ونت اپنے خیال پر گویا خود ہی جھوم اُٹھا۔
کاشی ناتھ کی موجودگی میں بھیگی بلی بنا بیٹھا تھا۔
میں نے دل ہی دل میں کہا۔ شاید اس تین گھنٹے کے وقفے میں سکھ ونت دوستوں کے درمیان بیٹھ کر اپنی انا کی زرد گھاس چھیلتا رہتا ہے اور رات کو تان پورہ لے کر اسی گھاس کی آرتی اُتارتا ہے۔
اچانک ایک حسینہ دائیں دروازے ٹی ہاؤس میں داخل ہوئی اور ہمارے پاس والے صوفے پر آ بیٹھی۔
سکھ وَنت نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
’’وہ میرا ماڈل نہیں ہوسکتی اس سے تو کہیں اچھا ہوگا کہ میں کسی چٹان کے نقوش سے عورت کی مبہم سی شکل اُبھاروں اور اب میں سوچتا ہوں چٹان کو ناول بنانا بھی فضول ہے۔‘‘
میں نے بازو لہرا کر کہا۔
خوشبو کی کوئی منزل نہیں۔
کاشی ناتھ نے مجھے گھور تے ہوئے کہا۔
پیارے تم اس جملے کا کاپی رائٹ کلیم نہیں کر سکتے۔ یہ تو جے پال کا کہیں سے اُڑایا ہوا تکیہ کلام ہے۔ تم یہ تسلیم کر لو ایسی بھی کیا شرم ہے۔
’’شرم‘‘ راجندر نے گردن بلند کرتے ہوئے کہا۔ ’’شرم تو وہ مرغ ہے جو روز کسی تندور کی آنچ سے نکل کر کھانے والے کی پلیٹ میں سج جاتا ہے۔‘‘
میں نے بات کا رخ جے پال کی طرف موڑتے ہوئے کہا۔
’’جے پال اپنے حجرے میں بیٹھا آرزوؤں کے اشارے پر خوشبوؤں کو آواز دے رہا ہوگا۔ اس روز سرِ راہ اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا کہ اس کا سفر میناکشی کے دروازے پر کھڑے یاتری کا سفر نہیں ہے جو ہوا کے دامن پر اُڑتے ہوئے پھول کو پاکر دیوی کے چرنوں کو بھول جاتا ہے۔ اس کے بیاہ کے مطابق اس کے اور اس پاکیزہ بھسم کے درمیان ایک فرلانگ کا فاصلہ ہے جسے وہ تین گھنٹے میں طے کرلیتا ہے۔ اسی بھسم کے وَردان سے ہی وہ اپنا ناول لکھ رہا ہے۔ جس کے پہلے باب میں روشنیوں کے شہر کا دروازہ کھل گیا۔‘‘
سکھ ونت ہنس پڑا۔
’’بجّو کہیں کا! قبرستان کا مجاور نہ ہو تو!‘‘
مجھے اس بات کا پورا یقین تھا کہ ہر میز پر کسی نہ کسی ایسے شخص کا کیری کیچر بنایا جا رہا ہے۔
راجندر نے مسکرا کر کہا۔ ’’جے پال کا ناول تو خود اسی کی طرح پورا نامکمل ہے۔‘‘
سکھ ونت نے میری طرف دیکھ کر کہا ۔’’آپ کیوں چپ ہیں کچھ تو کہیے۔‘‘
میں نے بازو لہرا کر کہا۔ ’’جے پال کا ناول تو تا حیات نامکمل رہے گا۔ جھوٹی کتابوں کے فرضی مصنفوں کے من گھڑنت حوالے دیتے دیتے وہ میدان چھوڑکر بھاگ گیا۔‘‘
سکھ ونت نے گمبھیر آواز میں کہا ’’جھوٹ بھی پانی کی طرح رِس رِس کر جمع ہوتا رہتا ہے۔ پھر یہ پانی سڑنے لگتا ہے اور خوشبو کی بجائے بدبو آنے لگتی ہے۔‘‘
اتنے میں جے پال بائیں دروازے سے اندر داخل ہوا اور میرے پاس والی کرسی پر آبیٹھا میں نے مسکراکر کہا ’’اتنے دن کہاں رہے؟‘‘
میری بات اَن سنی کرتے ہوئے جے پال نے کہا۔ ’’ریل کی پٹریاں آمنے سامنے الگ الگ چلتی رہتی ہیں اور سوچنے والا سوچتا ہے کہ کسی روز ابدیت میں دونوں پٹریاں ایک دوسرے میں مدغم ہوجائیں گی۔‘‘
کاشی ناتھ نے ٹھوڑی کھجاتے ہوئے کہا۔ ’’بغیر کہانی کے عنوان کیوں بتاتے ہو؟ چائے پیوگے؟‘‘ چائے آئی تو کاشی ناتھ نے چونکتے ہوئے سرگوشی کے انداز میں کہا۔ ’’یار! تم تو ریلوائی ہوکر بھی نہیں جانتے کہ پٹریوں پر پٹریاں نہیں ریل چلتی ہے۔‘‘
جے پال کو چائے پیتے دیکھ کر میں نے کہا۔
’’ہماری تخلیق کا آخر کیا قصور ہے کہ ہم دولت کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ کیا شہرت ہمارا مدّعا ہے کیا یہ محض اظہار کی تمنا ہے نہ کوئی خوشبو دیتا ہے نہ لیتا ہے، ہم خوشبو کے آنچل میں بدبو چھپائے پھرتے ہیں۔‘‘
’’خوشبو کی کوئی غزل نہیں‘‘ جے پال کہتا چلا گیا ’’پھول خوشبو دیتا ہے لیتا نہیں اور خوشبو دینے کے بعد بھول جاتا ہے کہ اس نے کسی نہ کسی چھوٹے بڑے پوکھر میں روشنی کے کنول کھلائے اور اسے روشنیوں کے شہر کی طرف گامزن کر دیا۔‘‘
’’یہ جملے کے جملے کس کی کتاب سے اُٹھا لائے ہو‘‘ کاشی ناتھ نے نئی ڈگر اپناتے ہوئے کہا۔
ہم قہقہوں میں کھو گئے جیسے بہت دنوں سے ہمیں اس تماشے کا انتظار ہو۔
اچانک سکھ ونت نے کرسی سے اُٹھتے ہوئے کہا ’’مجھے کسی سے ملنا ہے۔ یقین جانیے میں آدھ گھنٹے بعدآ جاؤں گا۔‘‘
ہماری نظریں اسی کا تعاقب کرتی رہیں۔ وہ باہر نکل گیا۔
اِدھر اُدھر کی باتوں میں وہ غم کے پہاڑ تلے دبا جارہا تھا۔
’’جیسے ہم ایک دوسرے کی بات سننے کے لیے نہیں بلکہ کاٹنے کے لیے یہاں اس کے گرد اکٹھے ہوجاتے ہیں۔‘‘
’’سوا گھنٹے تک سکھ ونت لوٹ کر نہ آیا تو میں نے سوچا اب وہ کیا آئے گا؟‘‘
شور کے پھو ل کھلتے رہے۔
اڑتے پھرتے دھوئیں کے بادل جھوٹی سچی قسمیں کھاتے رہے۔
وہی شور، دھواں ہی دھواں، چہرے ہی چہرے، جیسے منڈپ کی آگ بجھ گئی ہو۔ صابری کی تعریف کے پل باندھتے ہوئے بڑے رکھ رکھاؤ سے سچ مچ۔ پاس بیٹھے ڈاکٹر صابری کو دکھاتے ہوئے اس مورتی میں للت راگنی کا تاثر پیدا کر رہا ہو۔ اتنے میں میری نظر سکھ ونت پر پڑی، لیکن جے پال کو میری بگل میں بیٹھا کر وہ دوسرے دروازے سے باہر چلا گیا اور اس نے مڑ کر دیکھنے کی ضرورت بھی نہ سمجھی۔
میں نے محسوس کیا جیسے جے پال بھی اٹھ کر چل دیا ہو۔
میں نے دیکھا ایک دروازے سے سکھ ونت اور دوسرے دروازے سے جے پال باہر جا رہا ہے۔ میں نے من ہی من میں کہا ’’وِش بھی امرت کاہی ایک روپ ہے۔‘‘
دیوندر ستیارتھی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے