حسن بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا

حسن بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا

کیا کیا میں نے کہ اظہارِ تمنا کر دیا

بڑھ گئیں تم سے تو مل کر اور بھی بیتابیاں

ہم یہ سمجھے تھے کہ اب دل کو شکیبا کر دیا

پڑھ کے تیرا خط مرے دل کی عجب حالت ہوئی

اضطرابِ شوق نے اک حشر برپا کر دیا

ہم رہے یاں تک تری خدمت میں سرگرمِ نیاز

تجھ کو آخر آشنائے ناز بیجا کر دیا

اب نہیں دل کو کسی صورت کسی پہلو قرار

اس نگاہِ ناز نے کیا سحر ایسا کر دیا

عشق سے تیرے بڑھے کیا کیا دلوں کے مرتبے

مہر ذرّوں کو کیا قطروں کو دریا کر دیا

تیری محفل سے اُٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال

دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا

سب غلط کہتے تھے لطفِ یار کو وجہِ سکوں

دردِ دل اُس نے حسرتؔ اور دونا کر دیا

حسرت موہانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے