Husaan Marhoon

حسن مرہون جوش بادۂ ناز
عشق منت کش فسون نیاز

دل کا ہر تار لرزش پیہم
جاں کا ہر رشتہ وقف سوز و گداز

سوزش درد دل کسے معلوم
کون جانے کسی کے عشق کا راز

میری خاموشیوں میں لرزاں ہے
میرے نالوں کی گم شدہ آواز

ہو چکا عشق اب ہوس ہی سہی
کیا کریں فرض ہے ادائے نماز

تو ہے اور اک تغافل پیہم
میں ہوں اور انتظار بے انداز

خوف ناکامئ امید ہے فیضؔ
ورنہ دل توڑ دے طلسم مجاز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے