ہر جنم میں اسی کی چاہت تھے

ہر جنم میں اسی کی چاہت تھے
ہم کسی اور کی امانت تھے
اس کی آنکھوں میں جھلملاتی ہوئی
ہم غزل کی کوئی علامت تھے
تیری چادر میں تن سمیٹ لیا
ہم کہاں کے دراز قامت تھے
جیسے جنگل میں آگ لگ جائے
ہم کبھی اتنے خوبصورت تھے
پاس رہ کر بھی دور دور رہے
ہم نئے دور کی محبت تھے
اس خوشی میں مجھے خیال آیا
غم کے دن کتنے خوبصورت تھے
دن میں ان جگنوؤں سے کیا لینا
یہ دیے رات کی ضرورت تھے
بشیر بدر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے