ہم نوائی کی اُمید اے مرے فن کس سے کروں

ہم نوائی کی اُمید اے مرے فن کس سے کروں
ہو سخن سنج نہ کوئی تو سُخن کس سے کروں

خوار و بے یار و مددگار پڑا ہوں، آخر
ذکرِ بے گانگیِ اہلِ وطن کس سے کروں

کاغذی پھول یہاں پھیل گئے ہیں گھر گھر
دکھ بیاں آپ کا اے سر و سمن کس سے کروں

ہر گُلِ تازہ و تر میں جو تجھے دیکھتی تھی
وہ نظر ہی نہ رہی، سیرِ چمن کس سے کروں

بات ہوتی ہے محبت کی لطیف و نازک
نہ سُنے تو ہی تو اے غنچہ دہن کس سے کروں

اک نئی شمع نہ ہر روز جلاؤں تو شعورؔ
نو بہ نو دل کا شبستانِ کہن کس سے کروں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے