ہماری تباہی وپسماندگی اور اس کا حل!

ہماری تباہی وپسماندگی اور اس کا حل!

اِس جہاں آب و گل اور عالم بو و گل میں قدرت ایزدی کے کرشمہ ہائے بے شمار ہیں یہ جہاں مالک کون و مکاں و خالق این و آں کی قوت لا محدود کی عظیم جلوہ گاہ ہے جہاں خالق کائنات کی تخلیق کردہ مخلوق روز و شب اپنی حیات مستعار گزارتی رہتی ہے اور پھر ہر ذی روح اپنی زندگی کی متعینہ مدت پوری کرکے خس و خاشاک میں تبدیل ہو جاتی ہے اس دُنیائے جہاں میں جس طرف بھی نگاہ اٹھائیے ہر چیز خالق کائنات کی کاری گری کی عظیم شاہکار دکھائی دیتی ہے لیکن یہ باغ و بہار وقت گزرتے گزرتے دیکھتے ہی دیکھتے خزاں رسیدہ ہوجاتا ہے خالق کائنات کی تخلیق کردہ مخلوقات میں سے اشرف المخلوقات کائنات انسانی کیساتھ بھی موت و حیات کا رشتہ جڑا ہوا ہے۔
ہر انسان اپنی ذات کے خول میں بند ہوکر انسان کی سماجی جاندار والی شناخت کھورہا ہے۔ کل جن کے تحفظ کے لیے جان دی جاتی تھی‘ آج انھی کی جان اپنے ہی ہاتھوں لے لیجاتی ہے۔ اور تو اور اپنی زندگی کے چراغ کو اپنے ہی ہاتھوں گُل کرنے کے رجحان میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان میں تقریباً 15000 افراد ہر سال خود کشی کرتے ہیں۔ جس کے لیے تعلیم و صحت‘ ہاوسنگ‘ ٹرانسپورٹ‘ انصاف تک رسائی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ غربت اور بے روزگاری کو بنیادی محرکات قرار دیا گیا ہے۔
انسان کے مسائل آج کے نہیں‘رومی کا کہنا ہے کہ تمام انسانوں کا مخرج ایک ہی ہے لیکن اس مادی دُنیا میں وہ سب الگ الگ نظر آتے ہیں‘ وہ یہ کہتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان یہ تمام جھگڑے اور قطبیت کی وجہ‘زندگی کے مادی پہلوؤں پر توجہ مرکوز رکھنے کی وجہ سے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے کشادگی اور انکساری ہونی چاہیے‘ وہ عالمانہ خودپسندی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جو جمود کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بجائے وہ لوگوں کے درمیان مشترکیت تلاش کرنے کی تعلیم دیتے ہیں۔
رومی کے مطابق ایسے منفی خیالات‘ جو کہ نفرت‘ لالچ اور تشدد وغیرہ کی طرف لے جاتے ہیں اور اپنے اصل تک پہنچے کی انسانی صلاحیت کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔منفی خیالات کو‘جنہیں انسانی قلب کی تاریکی بھی سمجھا جاتا ہے‘مٹا دینے کی ضرورت ہے تا کہ انسانی زندگی کے اصل معنی کو سمجھا جا سکے۔

آج ہمارا بڑا مسئلہ کیا ہے؟مسئلہ‘دراصل منفی اثرات‘افراد کے رویوں‘رکاوٹوں اور اظراف کی ایسی صورت ہے‘ جس سے افراد اور معاشرے کی اقدار متاثر ہورہی ہیں۔ معاشرتی مسئلہ ایک ایسی حالت ہے جو معاشرے کی اعلیٰ اقدار کے زوال کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اگر معاشرہ کوشش کرے تو یہ حالت سُدھر سکتی ہے۔ سماجی مسئلہ ایسی صورت حال کا نام ہے‘جس میں کثرت آبادی ناپسندیدہ صورت حال سے دوچار ہو۔ سماجی مسائل اور برائیاں معاشرے کو گھن کی طرح کھا جاتے ہیں۔
آج کل‘بہت سے مسلم معاشرے کو فرقہ واریت اور تشدد کے نام پر ایسے ہی کڑے چلینجوں کا سامنا ہے۔ کبھی کبھی یہ جھگڑے الگ الگ ترجمانی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اکثر اوقات مخالف نظریات کو کم ہی قبول اور برداشت کیا جاتا ہے۔چناچہ معاشرہ تشدد اور جھگڑوں کی گرفت میں آجاتا ہے۔ایسی صورتحال میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ایسے ادب کو روشنی میں لایا جائے جو معاشرے میں امن و آشتی کو فروغ دے۔
رومی کے خیالات کیا ہیں؟ اول تو وہ محبت کی بنیاد پر انسانی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔ دوسرے یہ قلبی اور بین المذہبی عقائد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ تیسرے یہ اس خیال کے تحت کہ تمام انسانوں کا مخرج ایک ہی ہے‘ یعنی خدا‘ لہٰذا انسانیت کو عزت و وقار کا احساس دلاتے ہیں – ان کے خیالات‘ انسانی مساوات کے تصور کو تقویت بخشتے ہیں۔ہمارے معاشرے میں‘رومی کے خیالات کے فروغ کے لئے کئی سطحوں پر شعوری جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس طرح کی راہنمائی کی ضرورت ہے‘جو دوسروں کے نظریات کے حوالے سے تحمل اور رواداری کو فروغ دیں۔ رومی کا کلام‘ انسان اور انسانیت کی قدروقیمت کے حوالے سے متاثر کن تصورات پیش کرتا ہے۔
ہمارے ہاں بہت سے ایسے معاشرتی مسائل موجود ہیں‘ جو ایک فلاحی مملکت بننے کی راہ میں حائل ہیں۔ سب سے ضروری چیز‘جو کسی قوم کے لئے ترقی کے زینے کا پہلا قدم قرار پاتی ہے‘ وہ اس کی اخلاقی حالت ہے۔ قول و فعل کے تضاد‘ جھوٹ‘ دھوکہ دہی اور مکر و فریب ایسے اخلاقی رزائل ہیں‘ جن کی موجود گی میں کوئی قوم خواہ کتنے ہی علوم سے بہرہ ور ہو‘ کتنے ہی زمینی وسائل سے مالا مال ہو اور کتنی ہی افرادی قوت کی حامل ہو‘ترقی سے ہمکنار نہیں ہو سکتی۔ معاشرتی مسائل زوال کو دعوت دیتے ہیں….ہمارا ایک نہایت اہم مسئلہ جدید علوم سے ناواقفیت اور جہالت ہے۔ جدید ترین علوم اور ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر کسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ ہونے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ آج دُنیا کی قیادت ان ممالک کے ہاتھ میں ہے جو جدید علوم و فنون پر دسترس رکھتے ہیں۔ جذبہء قومیت کا فقدان بھی ہمارا نہایت اہم مسئلہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جن مقاصد کے حصول کے لئے ہم نے پاکستان حاصل کیا تھا‘ ہم انہیں آج تک پا نہیں سکے۔ ہمارے ہاں علاقائی مسائل کو ترجیح دینا‘ فرقہ بندی‘ صوبائی عصبیت، ملک و قوم کو پس پشت ڈال کر اپنی ذاتی اغراض کو اولیت دینا عام ہے۔ جو قوت ہم قومی تعمیر میں خرچ کر سکتے تھے‘اُسے آج تخریب میں بروئے کار لا رہے ہیں۔ اپنی منزل کے کھرے ہونے کا یقین ہو تو پھر افراد کے درمیان یکجہتی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ گو کہ نسل‘ زبان اور علاقائی حوالے سے آپس میں کچھ اختلافات موجود ہوتے ہیں‘ لیکن وسیع تر قومی مفاد کے لئے ایک ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ خدا اور اس کے بندوں سے مضبوط رشتہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔خالق سے محبت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اسکی تخلیق سے محبت کرنا سیکھیں۔ یعنی انسانوں اور نوع انسانی سے محبت کیے بغیر‘ کسی کو فیض الٰہی حاصل نہیں ہو سکتا۔ انسانی نجات کے لئے‘ خدا اور اسکی مخلوق سے محبت لازمی ہے- اگر انسان تنازعوں سے گریز کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں ہم آہنگی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں مادی تفریق کو تسلیم کرنا ہوگا۔انسانیت کی مشترکیت کو ڈھونڈنے کے لئے‘اپنی روح کی گہرائیوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے‘جو تمام نوع انسانی کو ایک بندھن میں باندھتی ہے۔

عابد ضمیر ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔