ہماری مٹی ہماری غیرت کا مسئلہ ہے

ہماری مٹی ہماری غیرت کا مسئلہ ہے
یہ مسئلہ بھی ہمیں قیامت کا مسئلہ ہے
کوئی حسد ہے نہ ہم تقابل میں پڑ رہے ہیں
تمہارے دل کی ہمیں رعونت کا مسئلہ ہے
مرے وطن تجھ پہ رب کی ساری نوازشیں ہیں
جو ابتدا سے ہے بس قیادت کا مسئلہ ہے
میں کج ادائی سے تنگ آیا ہؤا ہوں لیکن
اسے لگا ہے مجھے طبیعت کا مسئلہ ہے
کسی کو غم ہے جو بادشاہت ہے اب بھی کم ہے
کسی کو بچوں کی سالمیت کا مسئلہ ہے
غریب ملکوں کو آدمیت سکھانے والو
تمہارے گھر میں ہی آدمیت کا مسئلہ ہے
انہیں بتاؤ جو امن کا درس دے رہے ہیں
ہمیں تمہاری ہی بربریت کا مسئلہ ہے
"ہر اک وبا کی دوا ہے” سب جانتے ہیں لیکن
صغیر لوگوں کو ہے جو نیت کا مسئلہ ہے
صغیر احمد صغیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے