ہمارے سینے میں جو خلا تھا

ہمارے سینے میں جو خلا تھا
وہ سانس لینے سے بڑھ رہا تھا
زمیں مُسلسل سرک رہی تھی
میں خُود کو تھامے ہوئے کھڑا تھا
میں تیرے چُھونے سے ڈر رہا ہوں
میں تیرے ہاتھوں سے گر گیا تھا
ہمارے بازو کُھلے ہوئے تھے
کوئی صلیبیں سمجھ رہا تھا
مکان خالی پڑے تھے سارے
یہ شہر آفت میں مُبتلا تھا
درخت شکلیں بدل رہے تھے
عجیب موسم کا سامنا تھا
تو میں نے چاہا نظر بھی آؤں
میں اپنے پیچھے چُھپا ہوا تھا
یہ دنیا چکھنے کے بعد رکھ دی
پُرانی گندم کا ذائقہ تھا
چُھپا لیا تھا عصا کو اپنے
میں پھینک دیتا تو اژدھا تھا
وہ ہونٹ دریا سے جا ملے تھے
وہ رنگ پانی میں گُھل رہا تھا
ہوا نے چُپکے سے ایک نغمہ
ہماری گٹھڑی میں رکھ دیا تھا
فیصل ہاشمی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے