ہمارے خواب سے بہتر خیال بُنتا ھے

ہمارے خواب سے بہتر خیال بُنتا ھے
عجیب شخص ھے پانی سے جال بُنتا ھے
وہ لفظ لفظ میں بُنتا ھے معجزوں کا وجود
کہانیاں بھی جو دیکھو ۔۔ کمال بُنتا ھے
عدو کے وار سے بچنا محال ھے اُس کا
جو اپنے ہاتھ سے کاغذ کی ڈھال بُنتا ھے
وہ کل کے آنے کی مُطلق خبر نہیں رکھتا
جو جی کے ماضی میں باتوں سے حال بُنتا ھے
لبوں پہ آہنی تالے لگا لیے اُس نے
جو اپنی سوچوں میں لاکھوں سوال بُنتا ھے
عروج اُس کی نگاہوں میں کب محبت کا
محبتوں کا وہ ہر پل زوال بُنتا ھے
اُدھڑتا جاتا ھے دل کا غُلاف اُس کا بھی
جبھی تو سینے سے اُسکو نکال،بُنتا ھے
نظر نظر میں وہ چہرے تراشتا ھے بتول!
کسی کے گال پہ کالا سا خال بُنتا ھے
فاخرہ بتول

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے