ہمارے ذہن میں اک نقش جو ابھرتا ہے

ہمارے ذہن میں اک نقش جو ابھرتا ہے
ہمیں خبر ہے ہمیں کون یاد کرتا ہے
ہمارے خواب کی تعبیر کھل نہیں سکتی
ہمارے خواب میں اک شعلہ رقص کرتا ہے
کبھی وہ شخص مرے وصل کو تڑپتا تھا
ابھی وہ دن ہیں کہ سائے سے دور ہٹتا ہے
یہی ہیں وہ جنہیں فرصت نہیں تھی مرنے کی
انہی سے موت کا لمحہ نہیں گذرتا ہے
ہیں ایک جیسے یہ دن ایک جیسی راتیں ہیں
کہاں غروب ہے سورج کہاں نکلتا ہے
اسے تلاش کرو جو خدا سے بات کرے
سنا ہے ایسا کوئی جنگلوں میں رہتا ہے
صدیق صائب

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے