ہمارے وطن

ہمارے وطن
اے ہمارے دلوں کے دلارے وطن
ہم کو جاں سے بھی پیارے ہمارے وطن
جاں کی بازی لگا کر کریں گے سبھی
پورے تجھ کو جو ہوں گے خسارے وطن
تجھ کو تسخیر کرنا بھی دشوار ہے
جس نے کی یہ جسارت وہ مردار ہے
اب نحوست کے بادل بھی چھٹ جاٸیں گے
تیرےدشمن بھی ٹکڑوں میں بٹ جاٸیں گے
اے وطن تیری حرمت کی خاطر سبھی
موت کے سامنے شیر ڈٹ جاٸیں گے
ہر سپاہی تو حیدرؓ کی للکار ہے
اُس کے ہاتھوں میں خالدؓ کی تلوار ہے
آنچ آنے نہ دیں گے تری شان پر
تیرے بیٹے ہیں قرباں تری بان پر
گر ہمارے لہو کی ضرورت پڑی
جاں نچھاور کریں گے تری آن پر
اب رگوں میں بھی خوں مثلِ احرار ہے
تیرا ہر اک سپاہی بھی پُرکار ہے
ہم کو مطلب نہیں کوٸی دستار سے
ہم کو اُڑنا ہے شاہیں کی رفتار سے
جو بھُلا دی ہے اسلاف کی لوگوں نے
داستاں ہم لکھیں نوکِ تلوار سے
گر حفاظت کو اب خون درکار ہے
ہر سپاہی شہادت سے سرشار ہے
خوابِ اقبالؒ کی تو بھی تعبیر ہے
تُو محمد علؒی کی جو تقریر ہے
کوٸی طاقت نہ روکے گی تیرے قدم
ساری دھرتی ہی اب تیری جاگیر ہے
ہر مُسلمان تیرا پرستار ہے
ہر سپاہی بھی تجھ سے وفا دار ہے
ڈاکٹرمحمدالیاس عاجز

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے