ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ فرات کا ہے

ہمارے ساتھ کوئی مسئلہ فرات کا ہے
وگرنہ علم اسے اپنی مشکلات کا ہے
غزل میں اس لیے کرتا ہوں آپ کی تعریف
کہ لوگ خود مجھے بولیں یہ شعر نعت کا ہے
اک آدھے کام کے حق میں تو خیر میں بھی ہوں
تمھارے پاس تو دفتر سفارشات کا ہے
ہماری بات کا جتنا وسیع پہلو ہے
زباں پہ لانے میں نقصان کائنات کا ہے
ہم اس کے ہونے نہ ہونے پہ کتنا لڑ رہے ہیں
کسی کے واسطے یہ کھیل نفسیات کا ہے
تم اس پہ کیوں نئی باتوں کا بوجھ ڈالتے ہو
جب ایک شخص پرانے معاملات کا ہے
مرے حساب سے معذوری حسن ہے میرا
اگر یہ عیب ہے تو بھی خدا کے ہاتھ کا ہے
ضیا مذکور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے