Hum Jo Wairan Ghar Mein

ہم جو ویران گھر میں رہتے ہیں
حادثوں کی نظر میں رہتے ہیں

چاند سورج میں آپ کا چہرہ
آپ شام و سحر میں رہتے ہیں

ہم سے بھی مل کبھی گھڑی بھر کو
ہم بھی تیرے نگر میں رہتے ہیں

گفتگو میں تمھی جھلکتے ہو
ہم تمھارے اثر میں رہتے ہیں

اس کی یادیں بسی ہیں یوں مجھ میں
جیسے پنچھی شجر میں رہتے ہیں

ہم دھوئیں کی مثال ہیں لودھی
ہم ہمیشہ سفر میں رہتے ہیں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے