ہم جانا چاہتے تھے جدھر بھی نہیں گئے

ہم جانا چاہتے تھے جدھر بھی نہیں گئے
اور انتہا تو یہ ہے کہ گھر بھی نہیں گئے
وہ خواب جانے کیسے خرابے میں گم ہوئے
اس پار بھی نہیں ہیں ادھر بھی نہیں گئے
صاحب تمہیں خبر ہی کہاں تھی کہ ہم بھی ہیں
ویسے تو اب بھی ہیں کوئی مر بھی نہیں گئے
بارش ہوئی تو ہے مگر اتنی کہ یہ ظروف
خالی نہیں رہے ہیں تو بھر بھی نہیں گئے
عادلؔ زمین دل سے زمانے خیال کے
گزرے کچھ اس طرح کہ گزر بھی نہیں گئے
ذوالفقار عادل

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے