ہم بنے اور ہم سے زمانہ بنا

ہم بنے اور ہم سے زمانہ بنا
اور پھر ہم زمانے میں تحلیل ہوتے گئے
تم بھی تم نہ رہی
میں بھی میں نہ رہا
وقت کی رو نے ہم سے ہمارا وہ سب لے لیا
جو ہمارا تھا بس
اور ہمیں وہ دیا
جس نے بازار پیدا کیے
باٹ کا پہلا پتھر تمہارے لبوں کی ہنسی اور آنکھوں کے نم کی اسیری میں پیدا ہوا
بھاؤ اور بولیاں
خون کی ہولیاں
مخملی چادریں
بے ردائی کا ڈر
عشق کے نام پر کاروبار ہوس
یہ تمہارے مرے ارتقاء کے نہیں
منڈیوں کی تجارت کے پیمانے ہیں
ہم تو آزاد تھے
خیر اور شر کے چنگل میں پھنسنے سے پہلے
کہاں جسم تھا؟
اور کیا روح تھی ؟
ڈوبتے دل کا احساس پہلی دفعہ تب ہوا جب تمہیں کاروکاری بنانے کا چرچا ہوا
اور نادیدہ امداد کی آرزو تب ہوئی
جب کسی کھیت سے تری وحشت زدہ چیخ سے میرے بیٹھے کبوتر اڑے
آج دن ہے ترا
میری ہم سر ! مجھے تیرے دن پر تجھے اور کیا کہنا ہے؟
اور جو کہنا ہے وہ سب میں کیسے کہوں ؟
کس طرح تیری صدیوں پہ لمحوں کا مرہم دھروں؟

آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے