Hoyee Ek Umar

ہوئی اک عُمر ترکِ التجا کو

مگرہاتھ اب بھی اُٹھتے ہیں دعا کو

انہیں ضد ہے مری عرضِ وفا سے

نہ جانے کیا سمجھتے ہیں وفا کو

غرض کی زندگی مطلب کی دنیا

کہاں رکھوں دلِ بے مُدعا کو

محبت کا یہ تلخ انجام توبہ

کوئی آواز دے دے ابتدا کو

جو ہیں کھوئے ہوئے سازِ طرب میں

وہ کیا سمجھیں مرے دل کی صدا کو

شکیل اپنی وفا کرتی ہے ہر بار

سلامِ آخریاس بے وفا کو

شکیلؔ بدایونی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے