ہوتی ہے شمعِ عشق فروزاں کبھی کبھی

ہوتی ہے شمعِ عشق فروزاں کبھی کبھی
ملتے ہیں راہ میں بھی فریقاں کبھی کبھی

اک دور تھا کہ بھول گے تھے چمن کی سیر
آتا ہے اب تو یادِ گلستان کبھی کبھی

رنج وفراق کی بھی کوئی حدنہیں رہی
دیکھا ہے تیرے غم کو گریزاں کبھی کبھی

ہوتے ہیں صرف زینت کاشانہ رقیب
کاش آتے میرے پاس بھی جاناں کبھی کبھی

بہرِ سکون دل کبھی آجایا کیجیے
کرتا ہے عشق مجھ کو پریشان کبھی کبھی

جب توڑتا ہے بڑھ کے جدار حدودِ عشق
لیتا ہے نام مجنوں کا انساں کبھی کبھی

ایسے میں تم بھی لکھو منورؔ کوئی غزل
ملتے ہیں فکر کو دُرِ افشاں کبھی کبھی

سیّدہ منوّر جہاں منوّر
اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے