یوں تو کیا کیا راحتیں دامانِ ساحل میں نہیں

یوں تو کیا کیا راحتیں دامانِ ساحل میں نہیں
جو نشہ موجِ مسافت میں ہے منزل میں نہیں
اب تو قاتل کے ہنر کی دادا دینا چاہیے
اب تو رنجش کا نشاں تک رقصِ بسمل میں نہیں
یار کو ہم نے بالآخر مہرباں تو کر لیا
آ پڑی ہے دل کو اب مشکل کہ مشکل میں نہیں
اس بتِ کافر کی صحبت کا اثر کہہ لیجئے
کچھ محبت کے سوا اب خانۂ دل میں نہیں
جان سے بھی سخت جاں ہیں روح کی بے چینیاں
اپنی وحشت کا مداوا دستِ قاتل میں نہیں
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے دشتِ عشق میں
قیس صحرا میں نہیں ، لیلیٰ بھی محمل میں نہیں
ہم کو خوش آیا تری فطرت کا یہ پہلو سعید
یا تو اپنے رنگ میں یا رنگِ محفل میں نہیں
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے