ہو بہو تیرا سراپہ ہے مگر تو نہیں ہے

ہو بہو تیرا سراپہ ہے مگر تو نہیں ہے
رات کی رانی میں بس سانپ ہے،خوشبو نہیں ہے

غم دنیا کا ہنر ہے نظرانداز نہ کر
میرے ماتھے کی شکن ہے ترا ابرو نہیں ہے

ایک دن آئے گا ہم دونوں بچھڑ جائیں گے
اس اداسی کا کوئی دوسرا پہلو نہیں ہے

پھول دیتی ہے ہوا دیتی ہے پھل دیتی ہے
پیڑ کی شاخ ہے یہ آپ کا بازو نہیں ہے

میرے ہاتھوں میں ترا ہاتھ ہے اور شعبدہ گر
ہنس رہے ہیں کہ مرے ہاتھ میں جادو نہیں ہے

ہجر کے دن ہیں مگر تیری طلب گھٹتی نہیں
ماہ صیام ہے اور بھوک پہ قابو نہیں ہے

اتنی سب لڑکیوں میں کوئی بھی سمجھی نہ مجھے
سب کی سب تتلیاں ہیں ایک بھی جگنو نہیں ہے

غم کہاں ہے یہ ندامت ہے کہ چہرے پہ ترے
تیرے ماتھے کی نمی ہے ترا آنسو نہیں ہے

پھر تو آزادی کوئی ذہنی خلل ہے آرش
بے لباسی میں بھی آزاد اگر تو نہیں ہے

سرفراز آرش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے