ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا

ہونٹوں کو پھول آنکھ کو بادہ نہیں کہا
تجھ کو تری ادا سے زیادہ نہیں کہا
برتا گیا ہوں صرف کسی سیر کی طرح
تونے مجھے سفر کا ارادہ نہیں کہا
کہتا تو ہوں تجھے میں گل خوش نما مگر
خوش رنگ موسموں کا لبادہ نہیں کہا
رہتے ہیں صرف تنگ نظر لوگ جس جگہ
اس شہر بیکراں کو کشادہ نہیں کہا
باندھا ہر اک خیال بڑی سادگی کے ساتھ
لیکن کوئی خیال بھی سادہ نہیں کہا
میری بساط پر تو سبھی بادشاہ ہیں
میں نے کبھی کسی کو پیادہ نہیں کہا
وہ آسماں مزاج مسافر ہوں آج تک
میں نے تری زمین کو جادہ نہیں کہا
ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے