ہو جائے گا جس کو بھی دیدار محمدﷺ کا

ہو جائے گا جس کو بھی دیدار محمد کا

فردوس میں جائے گا بیمار محمد کا

جو نام فقط لے گا اک بار محمد کا

بھرے گا وہ دامن میں سب پیار محمد کا

جنت کی ہواؤں کی سانسوں میں مہک ہو گی

جس دِل میں بسا ہو گا گلزار محمد کا

پڑھتا ہے مسلسل جو ہر روز درُود اُن پر

ہوتا ہے فدا اُس پر گھر بار محمد کا

دُنیا بھی اُسی کی ہے عُقبیٰ بھی اُسی کا ہے

جس دِل کو لگا ہو گا ازار محمد کا

رستہ بھی نہ بھٹکے گا منزل پہ بھی پہنچے گا

ہو جس کی نگاہوں میں کردار محمد کا

تھا قیصر و کسریٰ کے دربار سے بھی اعلی

لگتا تھا جو حجرے میں دربار محمد کا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے