ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے​

ہوگئے دن جنہیں بھلائے ہوئے​
آج کل ہیں وہ یاد آئے ہوئے​

میں نے راتیں بہت گزاری ہیں​
صرف دل کا دیا جلائے ہوئے​

ایک اُسی شخص کا نہیں مذکور​
ہم زمانے کے ہیں ستائے ہوئے​

سونے آتے ہیں لوگ بستی میں​
سارے دن کے تھکے تھکائے ہوئے​

مسکرائے بغیر بھی وہ ہونٹ​
نظر آتے ہیں مسکرائے ہوئے​

گو فلک پہ نہیں، پلک پہ سہی​
دو ستارے ہیں جگمگائے ہوئے​

الوداعی مقام تک آئے​
ہم نظر سے نظر ملائے ہوئے​

اے شعورؔ اور کوئی بات کرو​
ہیں یہ قصّے سُنے سنائے ہوئے​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے