ہو تیری رضا جو, وہ چاہت میری

ہو تیری رضا جو, وہ چاہت میری
اور حمد و ثناء ہو بس عادت میری
تیرا نام پکاروں گھر گھر میں
تیرا ذکر ہو بستی بستی میں
تیرے بندے تیری بات سنیں
تیرے حکم کی یوں تعمیل کریں
جو تو کہہ دے اٹھ جاؤ تم
نظروں کو جھکانا بھول چُکیں
جو تُو کہہ دے کچھ بولو تم
قرآن پڑھیں اور پھر نہ رکیں
جو تو کہہ دے کچھ سوچو تم
تو ہو جائیں تیری ذات میں گُم
اے ربِ یوسفؑ , ربِ کلیمؑ
ہو مجھ کو عطا وہ عقلِ سلیم
جس سے میں کروں پرچار تیرا
اعلان کروں میں عام تیرا
بریرہ خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے