ہو کبھی مجھ سے ہمکلام اے دوست

ہو کبھی مجھ سے ہمکلام اے دوست
کہہ رہی ہے سہانی شام اے دوست
زندگی کیا ہے اک سفر کے سوا
کیجیے کیا یہاں قیام اے دوست
کیا طنابوں سے باندھتا وحشت
جل گئے یاد کے خیام اے دوست
مستقل ہے جدائی کا موسم
ہے محبت کا اختتام اے دوست
رات بھر خواب جاگتے رہیں گے
نیند کا کیجے انتظام اے دوست
کال کیا, اس نے تو مسینجر پر
نہیں بھیجا کوئی پیام اے دوست
یاد احباب تب کیا مجھ کو
جب پڑا مجھ سے کوئی کام اے دوست
تشنگی جان لیوا ہے ارشاد
اور خالی پڑے ہیں جام اے دوست
ارشاد نیازی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے