ہو گئے جان بہ لب، کھول دیا

ہو گئے جان بہ لب، کھول دیا
دل نے امکانِ طرب کھول دیا
کوچہِ خواب میں جانے والو !
ہم نے دروازہِ شب کھول دیا
مانگنے والے کہاں غائب ہیں؟
کس نے مفہومِ طلب کھول دیا
کربلا جاتے ہیں سیرابی کو
تو نے پرنالہ عجب کھول دیا
کیا دعاؤں سے رکاوٹ ہو گی
جنگ کا راستہ جب کھول دیا
اس نے جلدی میں بٹن بند کیے
اور ترتیب نے سب کھول دیا !
راز احتشام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے