ہمراہی

ہمراہی

میرے ذہن میں
اِک نقطہ تھا
کچھ دھندلا کچھ بجھا بجھا سا
تو نے اس نقطے کو دیکھا
اور پھر اس کو
مان کے مرکز
ایسی کوئی لکیر لگائی
مجھ کو انوکھی راہ دکھائی
اب وہ لکیر ہے میرا رستہ
اور ہو تم میرے ہمراہی

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے