ہمیشہ جیتنے والا کبھی تو ہارا بھی ہو

ہمیشہ جیتنے والا کبھی تو ہارا بھی ہو
محبتوں میں کوئی فیصلہ ہمارا بھی ہو
میں اس کنارے پہ بیٹھا ہوں اور سوچتا ہوں
مری گرفت میں دریا کا وہ کنارا بھی ہو
یہ شہر چھوڑنا مشکل تو ہے مگر سر دست
کسی کو میرا ٹھہرنا یہاں گوارا بھی ہو
مجھے قبول نہیں تہمت دعا اور وہ
یہ چاہتا ہے کسی نے اسے پکارا بھی ہو
میں آفتاب نہیں ہوں مگر کبھی شہزادؔ
مرے مدار میں اس شخص کا ستارا بھی ہو
قمر رضا شہزاد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے