ہمارے ساتھ چلا ہے تو تھک نہ جائے گا

ہمارے ساتھ چلا ہے تو تھک نہ جائے گا
یہ ماہتاب بہت دُور تک نہ جائے گا
ہَوا کا دھیان بٹائے گا گھر کا سنّاٹا
چراغ جل بھی رہا ہو تو شک نہ جائے گا
حال پوچھا نہ کرے، ہاتھ ملایا نہ کرے
میں اِسی دھوپ میں خوش ہوں کوئی سایہ نہ کرے
میں بھی آخر ہوں اِسی دشت کا رہنے والا
کیسے مجنوں سے کہوں خاک اُڑایا نہ کرے
آئنہ میرے شب و روز سے واقف ہی نہیں
کون ہوں، کیا ہوں؟ مجھے یاد دِلایا نہ کرے
عین ممکن ہے چلی جائے سماعت میری
دل سے کہیے کہ بہت شور مچایا نہ کرے
مجھ سے رستوں کا بچھڑنا نہیں دیکھا جاتا
مجھ سے ملنے وہ کسی موڑ پہ آیا نہ کرے
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے