ہمیں تیری محبت میں کمی اچھی نہیں لگتی

ہمیں تیری محبت میں کمی اچھی نہیں لگتی
نہ اب اتنی ستا، اتنی بے رُخی اچھی نہیں لگتی
بھلا میں آنسوؤں کو کب تلک روکوں پسِ مژگاں
دلِ مجبور تیری بے کسی اچھی نہیں لگتی
شبِ مہتاب آئی ہے، مگر تاریک آنگن ہے
ترے بن دم بخود یہ چاندنی اچھی نہیں لگتی
بھلا کیوں آس کے دروازے پر ہے اب تلک بیٹھا؟
دلِ خوش فہم، تیری بے بسی اچھی نہیں لگتی
ہوا! تُو گر ملے اُس سے تو یہ کہنا کہ تیرے بن
تری ناہید تیری باؤلی اچھی نہیں لگتی
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے