ہم جہاں بھی جدھر بھی جائیں گے

ہم جہاں بھی جدھر بھی جائیں گے
ہر طرف آپ ہی کو پائیں گے
جو سمجھ ہی نہ پائے دل کی بات
اُس کو ہم دل کی کیا سنائیں گے
زرد عارض ہیں سرخ ہیں آنکھیں
دل کے غم کب تلک چھپائیں گے
چھوڑیے میرے قصۂ غم کو
آپ اس کو سمجھ نہ پائیں گے
جتنے بھی دُور ہم چلے جائیں
خود کو تجھ سے جدا نہ پائیں گے
تیرے زانو پہ مرنے کی خواہش
ہائے! ہم کس طرح بھُلائیں گے
عمر تو ہم گزار لیں گے مگر
تیرے بن زندگی نہ پائیں گے
پیار ہی پیار ہو جہاں ناہید
ایک ایسا بھی گھر بنائیں گے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے