حساب

یہ طے ہوا تھا

کہ خواب رستوں پہ دونوں

مل کر سفر کریں گے

اور اپنے رستے میں آنےوالے ہر اک پڑاو میں

رک کے پلکوں کو جھاڑ لیں گے

کہ وہ جو تعبیر ہو نہ پائے

وہ خواب سارے اُسی سرائے میں چھوڑ آئیں

سو چند لمحوں کو پھر سے جاگیں

ابھی جو بیدار ہیں تو آو حساب کرلیں

کہ کس سرائے میں کون تدبیر کر رہا تھا

مری طرف سے حساب لکھ لو

سفر کے پچھلے پڑاو میں جب

تم انپی پلکوں سے اپنے سب سے حسین

تعبیر ہو نہ پائے جو خواب لمحے گِرا رہے تھے

میں رو رہا تھا

سو میرے ادنیٰ سے آنسووں کا حساب لکھ لو

ہاں یاد آیا

تم اپنی آنکھوں سے جب وہ لمحے گرا رہے تھے

تو ایک لمحہ مرے لیے تھا

اور اس میں صدیوں سے چلتی آئی

کسی روایت کا عکس تاویل کرنے والے سبھی عناصر

سے جانے کیسی عجیب تکرار کر رہا تھا

وہ ضد تھی ؟ کیا تھا ؟

سو میری الجھن کا حل نکالو

مجھے بتاو

اس ایک لمحے میں کیا ہوا تھا

تم اس میں گریہ کُناں تھے لیکن تمارے نالوں کا میں ہدف تھا

اگر وہ گُزرے دنوں کی پاداش میں

سسکتی ہوئی محبت کی آرزو ں کے قتلِ ناحق

پہ ہاو ہو تھی

تو اس اذیت کا آج مجھ سے

حساب کرلو

 

عمران سیفی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے