فروری 5, 2023
سعود عثمانی کی ایک اردو غزل

حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا

شروع اس نے کیا اختتام میں نے کیا

وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے

سو اس کا جشن بصد اہتمام میں نے کیا

بہت دنوں میں مرے گھر کی خامشی ٹوٹی

خود اپنے آپ سے اک دن کلام میں نے کیا

اس ایک ہجر نے ملوا دیا وصال سے بھی

کہ تو گیا تو محبت کو عام میں نے کیا

مزاج غم نے بہر طور مشغلے ڈھونڈے

کہ دل دکھا تو کوئی کام وام میں نے کیا

وہ آفتاب جو دل میں دہک رہا تھا سعود

اسے سپرد شفق آج شام میں نے کیا

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے