حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا

حساب ترک تعلق تمام میں نے کیا

شروع اس نے کیا اختتام میں نے کیا

وہ چاہتا تھا کہ دیکھے مجھے بکھرتے ہوئے

سو اس کا جشن بصد اہتمام میں نے کیا

بہت دنوں میں مرے گھر کی خامشی ٹوٹی

خود اپنے آپ سے اک دن کلام میں نے کیا

اس ایک ہجر نے ملوا دیا وصال سے بھی

کہ تو گیا تو محبت کو عام میں نے کیا

مزاج غم نے بہر طور مشغلے ڈھونڈے

کہ دل دکھا تو کوئی کام وام میں نے کیا

وہ آفتاب جو دل میں دہک رہا تھا سعود

اسے سپرد شفق آج شام میں نے کیا

سعود عثمانی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے